جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

طالبان کی نیت پر شک کی کوئی وجہ نہیں، انڈین میڈیا بارے بھی میجر جنرل بابر افتخارکا اہم بیان

datetime 20  ستمبر‬‮  2021 |

راولپنڈی (آ ن لائن)پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس طالبان کی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک بشمول پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانیوں پر شک کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ پیر کو ایک انٹرویو میں فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان سلامتی یقینی بنانے کے لیے

طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ’طالبان نے کئی مواقع پر دہرایا ہے کہ کسی گروہ یا دہشت گرد تنظیم کو کسی ملک بشمول پاکستان کے خلاف کسی دہشت گرد سرگرمی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہمارے پاس ان کی نیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اور اسی لیے ہم ان سے مسلسل رابطے میں ہیں تا کہ اپنے قومی مفاد کا تحفظ کر سکیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے اور مستقبل قریب میں اس کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا جائے گا۔ ’ہمارا ہمیشہ سے مقصد سرحد کے اس طرف والے حصے پر بہتر مینجمنٹ رہا ہے۔ پاکستان افغان سرحد پر باڑ لگانا اس خطے کی ہیئت اور دوسری مشکلات کی وجہ سے ایک بڑی زمہ داری تھی۔ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان نے بارڈر کے 90 فیصد حصے پر باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ بارڈر مینجمنٹ میں مسلسل بہتری ہو رہی ہے اور ہم پر امید ہیں کہ مستقبل قریب میں اس کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا جائے گا۔‘ پاکستانی افواج کے طالبان کے ہمراہ افغانستان میں لڑنے کے حوالے سے انڈین میڈیا پر چلنے والی خبروں کے بارے میں پوچھے گیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے انڈین میڈیا نے طالبان کے پنجشیر پر حملے کے

حوالے سے خود کو پیش کیا ہے وہ اس بات کی کافی شہادت ہے کہ ان کا میڈیا جعلی خبروں اور جھوٹی گھڑی گئی کہانیوں پر پروان چڑھتا ہے۔ ’بین الااقوامی میڈیا کے معروف اداروں اور کچھ انڈین صحافیوں نے افغانستان کے واقعات پر انڈین میڈیا کی کوریج جس میں انہوں نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی تھی کا مذاق اڑانے کے لیے خبریں بھی چلائی ہیں۔‘

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…