اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کی دفاعی پیداوار ، سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے انقلابی منصوبہ پیش کردیا

datetime 28  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداواری نے سفارش کی ہے کہ پاکستان کی دفاعی پیداوار کے اداروں میں تیار ہونیوالے عسکری وغیر عسکری سامان کی بیرون ممالک درآمد پر پابندی لگائی جائے ، اگر اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہو تو ضروری اقدامات کئے جائیںجبکہ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ وزارت کا بجٹ وزارت دفاع سے الگ ہونا چاہئے ، یہ بجٹ صرف ایک بار دیا جائے اس کے بعد دفاعی پیداوار کے ادارے خود کمائیں اور ان کی توسیع ممکن ہوسکے۔منگل کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیدوار کا اجلاس کمیٹی کے چیئر مین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں دفاعی پیدوار کے شعبے میں ہونیوالی پیش رفت اور اس شعبے سے متعلقہ اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹرز مس ستارہ ایاز ، خافظ حمد اللہ ، سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ، پرویز رشید، مسز سحر کامران ، گیانچند ، برگیڈیئر (ر) جولن کینتھ ویلیمزنے شرکت کی ۔کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی دفاعی پیدوار کے اداروں میں تیار ہونیوالے عسکری اور غیر عسکری سامان کی بیرونی ممالک سے درآمد پر پابندی لگائی جائے اور مقامی سطح پر تیار ہونیوالے سازو سامان سے استفادہ کیا جائے اور دفاعی شعبے میں جدت پسندی لائی جائے ۔کمیٹی نے ہدایات دیں کہ اگر اس سلسلے میں کہیں قانون سازی کی بھی ضرورت ہو تو ا س سلسلے میں بھی ضروری اقدامات کر لئے جائیں تاکہ دفاعی پیداوار کے شعبے کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا جائے ۔کمیٹی کے چیئر مین نے دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر دفاعی پیداوار کے اداروں کی سیکیورٹی کا دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف مکمل دفاع کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔تحقیق کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ دفاعی پیدوار میں جدت لانے کیلئے تحقیق پر توجہ دینا ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تجویز دی کہ ایسے اداروں میں بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں کرپشن اور کک بیکس کا خاتمہ کر کے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ساتھ ہی اورہیڈز کو بھی کم کیا جائے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے ۔بجٹ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی نے تجویز دی کہ دفاعی پیداوار کی وزارت کا بجٹ وزارت دفاع سے الگ ہونا چاہیے اور یہ بجٹ صرف ایک دفعہ دیا جائے اور اسکے بعد دفاعی پیداوار کے ادارے خود کمائیں اور اداروں کی توسیع ممکن ہو سکے ۔جنرل قیوم نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی پیدوار کی صلاحیتیں کسی سے کم نہیں جو کہ نہ صرف پاکستان آرمی کی ضروریات کو پور ا کر رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی دفاعی شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے ۔چیئر مین کمیٹی نے وزیر برائے دفاعی پیدوار رانا تنویر اور وزارت کے حکام نے تفصیلی بریفنگ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کمیٹی دفاعی پیدوار کے شعبے میں کام کرنے والے تمام اداروں کا دورہ کر یگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…