جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

لاہور پولیس کا ایک اور فرزند فرض کی راہ میں شہید ہوگیا

datetime 13  اگست‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن)سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا ہے کہ قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔جرائم پیشہ افراد کے قلع قمع کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ شہری پر امن ماحول میں سکون سے زندگی بسر کر سکیں۔لاہور پولیس کا ایک اور فرزند گذشتہ روز شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے دوران

ڈاکووں کا مقابلہ کرتے ہوئے فرض کی راہ میں قربان ہو گیا۔ شکر گڑھ ناروال کا رہائشی چالیس سالہ کانسٹیبل محمد رمضان تھانہ داتا دربار میں تعینات تھا۔شہید کانسٹیبل محمد رمضان کی نماز جنازہ آج پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کر دی گئی۔سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر، ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی، ڈی آئی جی سیکیورٹی محبوب رشید،ایس ایس پی آپریشنز سید ندیم عباس،ڈویڑنل ایس پیز،ڈی ایس پیز اور پولیس جوانوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور دیگر اعلٰی افسران نے شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے شہید کے جنازے کو کندھا بھی دیا۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور دیگراعلٰی پولیس افسران نے شہید کانسٹیبل کے والد اور دیگر ورثاء سے اظہار تعزیت کیا، دلاسہ دیا اور اہلخانہ کے مکمل دیکھ بھال کی یقین دہانی کروائی۔کانسٹیبل رمضان گذشتہ رات نامعلوم ڈاکوں کی فائرنگ سے شہید ہو گیا تھا۔کانسٹیبل رمضان شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہوئے شہید ہوا۔کانسٹیبل رمضان کو سینے اور کان کے قریب فائر لگے جسے زخمی حالت میں میو ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا

اور جام شہادت نوش کیا۔شہید کے سوگواران میں بیوی،04 بیٹے اور 01 بیٹی شامل ہیں۔واقعہ کا مقدمہ کانسٹیبل بلال احم کی مدعیت میں تھانہ داتا دربا میں درج کر لیا گیا ہے۔شہید کی تدفین پورے اعزاز کے ساتھ اس کے آبائی گاوں شکر گڑھ ناروال میں کر دی گئی۔محمد رمضان نیسال 2005 میں بطور کانسٹیبل پولیس فورس جوائن کی۔میڈیا کے

نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ لاہور پولیس نے ہمیشہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر اپنی جان نچھاور کی۔پولیس شہداء پولیس ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کی روشن مثالیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ فخر ہے ایسی فورس کا سربراہ ہوں جس نے ملک و قوم کی سلامتی کیلئے گراں قدر قربانیاں دیں۔ سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ کانسٹیبل رمضان کی شہادت کے بعد لاہور پولیس کے شہداء کی

مجموعی تعداد 321 ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن کے داعی شہداء پولیس ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کی روشن مثالیں ہیں۔سربراہ لاہور پولیس نے کہا کہ لاہور پولیس نے ہمیشہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ایسے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور شہادتوں سے لاہور پولیس کا مورال مزید بلند ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں ملک و قوم کی سلامتی کیلئے قربانیاں دینے والے لاہور پولیس کے عظیم اور بہادر جوانوں پر مشتمل فورس کا کمانڈر ہونے پر فخر ہے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…