جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان اس وقت بجلی کے ٹیرف ریٹ میں اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا شوکت ترین نے ٹیکس دینے والوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 26  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس وقت بجلی کے ٹیرف ریٹ میں اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا،ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے ، ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے ،توانائی کے شعبہ میں قلت موسمی حالات کے باعث ہوئی، تربیلا ڈیم میں پانی کم ہونے کے باعث مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا نہیں ہو سکی، ایک ہفتے کے اندر

توانائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دو روز قبل آئی ایم ایف سے مثبت بات چیت ہوئی، ہمارا آئی ایم ایف سے روڈ میپ مختلف ہے، آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ ہم سرکلر ڈیٹ، پاور سیکٹر کو ٹھیک کریں گے، ہماری منزل مستحکم معیشت ہے، پاکستان اس وقت بجلی کے ٹیرف ریٹ میں اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ایسے لوگ جو پہلے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اینگرو ایل این جی ٹرمینل کی شیڈول مرمت کے لئے بند ہو گا جو ایک سے دو ہفتے کے دوران مرمت کے بعد دوبارہ فعال ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ توانائی کے شعبہ میں قلت موسمی حالات کے باعث ہوئی، تربیلا ڈیم میں پانی کم ہونے کے باعث مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا نہیں ہو سکی، ایک ہفتے کے اندر توانائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور میں ریونیو کمزور تھے، رواں سال مارچ سے ان میں بہتری آئی ہے، رواں سال ہمارا ریونیو پچھلے سال کی نسبت 45 سے 50 فیصد

زیادہ آیا ہے، ہم 4.7 کا ہدف مقرر کر آگے بڑھ رہے ہیں، اگست تک مثبت اعشاریے دکھانے ہیں، ستمبر میں بات چیت چلے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ریٹیل سیکٹر میں ایک سسٹم لگائیںگے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریبا 100 ارب روپے تک کی گنجائش موجود ہے، اس کے علاوہ پبلک سیکٹر کمپنیز سے منافع بھی حاصل ہوگا، اس طرح کافی ریونیوز کی گنجائش موجود ہے اور ہم پرامید ہیں کہ ہم 5.8 ٹریلین کا ہدف پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاٹا 30 سال سے دہشتگردی کی زد میں ہیں، 3 سال پہلے پارلیمنٹ نے کہا کہ فاٹا پاٹا میں اگر کوئی انڈسٹری لگائی جائے گی جس سے وہاں کے عوام کو فائدہ ہو گا اور فاٹا پاٹا کے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے تو اس انڈسٹری سے ٹیکس نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاٹا میں دی جانے والی چھوٹ کے حوالے سے مانیٹرنگ سخت کرنے کی ضرورت ہے

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…