جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے جے ایف تھنڈر طیاروں کے پہلے برآمدی آرڈر سے بھارت پریشان

datetime 22  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) پاکستان فضائیہ نے بھارتیوں کی نیندیں حرام کردیں. پاکستان کے جے ایف تھنڈر طیاروں کے پہلے برآمدی آرڈر نے بھارت کو پریشان کردیا ہے۔ بھارت کے ملکی سطح پر تیار تیجاس طیاروں کو جنگی آپریشنل کیلئے تیار ہونے میں مزید ایک سال درکار ہوگا۔ بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز‘‘ نے جے ایف تھنڈر اور تیجاس کا موازنہ کرتے ہوئے ملکی سطح پر تیار اپنے تیجاس طیاروں کو ناقص قرار دیا ہے۔معروف دفاعی تجزیہ نگاررفیق مانگٹ کے مطابق تیجاس لڑاکا طیارے رافیل اور سخوئی کی طرح کثیر جہتی جنگی صلاحیتوں کے حامل نہیں اور نہ ہی وہ چین میں ہدف کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان پہلے ہی چین کی مدد سے تیارکردہ اپنے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کاپہلا برآمدی آرڈر حاصل کرچکاہے جبکہ بھارت کے ملکی سطح پر تیار تیجاس لڑاکا طیاروں کو جنگی آپریشن کے لئے مکمل طور پر تیارہونے میں ایک سال لگے گا۔بھارت کے لئے سب سے زیادہ تشویش اس پر بھی ہے کہ طاقتور انجن کے حامل تیجا س مارک ٹو کاپہلا پروٹو ٹائپ کو ابھی فضاؤں میں جانے کیلئے مزید تین سے چار سال لگیں گے۔ پاکستان اور چین سے شدید خوفزدہ بھارتی فضائیہ کے پاس موجود 35اسکواڈرن میں سے بھی نصف طیارے آپریشن کے قابل ہیں جب کہ بھارت کو اس وقت 44اسکواڈرن کی ضرورت ہے۔بھارت کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ ان کی موجودہ فضائی طاقت متروک،ناقص کارکردگی اور مرمتی عمل کا شکار ہے۔ بھارت کے فرانس کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کیلئے جاری کمرشل مذاکرات میں انڈین ائیرفورس ان طیاروں کی تعداد کو دگنا کرنے پر زور دے رہی ہے۔ان طیاروں کے معاہدے پر اسی ماہ دستخط ہوں گے۔ تاہم ان فرانسیسی طیاروں کی ترسیل میں دو سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ مگ 21اور مگ27 طیاروں کو گراؤنڈ کیے جانے کا عمل جاری ہے۔سنگل انجن تیجا س کو حتمی فضائی کلیئرنس آئندہ برس وسط میں ملنے کا امکان ہے۔ تاہم تیجاس لڑاکا طیارے رافیل یا سخوئی لڑاکا طیاروں کی طرح کثیر جہتی جنگی کردار پر پورا نہیں اترتے ان کی رینج صرف چار سو کلومیٹر اور ہتھیاراٹھانے کی صلاحیت رافیل اورسخوئی سے ایک تہائی کم ہے۔انہیں چین کو ہدف بنانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…