جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

سمندری ٹریفک جام ہو کر رہ گئی، مصر نے نہر سویز بند کر دی، ایشیا میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد، قاہرہ(این این آئی)پھنسنے کے باعث پانی کے ذریعے یورپ سے ایشیا سامان پہنچانے کا راستہ بند ہونے سے مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں اور کئی بحری جہاز راستے میں ہی رک گئے ۔نہر سوئز میں بحری جہاز پھنسنے کے بعد آئل ٹینکرز کے شپنگ ریٹس دگنے کر دئیے گئے ہیں اور 30 سے زیادہ آئل ٹینکرز راستے میں ہی پھنسے

ہونے سے ایشیا میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کا رخ موڑ کر نہر میں راستہ بنانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ ریت کے طوفان کے باعث چند روز قبل 1300 فٹ طویل بحری جہاز نہر سوئز میں پھنس گیا تھا۔سویز نہر کو روکنے والے ایک بڑے کنٹینر جہاز کے مالکان نے کہا ہے کہ انہیں اسے دوبارہ تیرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مصر کی مصروف ترین شپنگ لینز میں سے ایک عارضی طور پر بند ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریسکیو ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ بندش چند دنوں یا ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر عالمی سطح پر سپلائی نیٹ ورک کو ایک دھچکا لگے گا اور کاروباروں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے آس پاس کارگو جہازوں کو بھیجنا پڑے گا۔ایک بڑے آپریٹر ہپگ لائیڈ نے بتایا کہ اس کے 5 جہاز کو روکا گیا ہے اوروہ اب ممکنہ دوسرا مقام ڈھونڈ رہے ہیں۔مصر کی سوئز نہر اتھارٹی (ایس سی اے)نے کہا کہ وہ ایم وی ایور گیون، جو 1300 فٹ لمبا جہاز ہے اور منگل کے روز ریت کے طوفان میں پھنس گیا تھا کو نکالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جس کے لیے ٹگ بوٹس، ڈریجرز اور بھاری مشینریز تعینات کردی ہیں تاہم اب تک جہاز ہلا تک نہیں۔ڈچ ادارے سمِٹ سیلویج کے

سربراہ پیٹر برڈوسکی جو اس سے قبل اطالوی کروز جہاز کوسٹا کونکورڈیا اور ڈوبے ہوئے روسی جوہری سب میرین کرسک پر کام کرچکے تھے، نے کہا کہ یہ واقعی ساحل سمندر کی ایک بھاری وہیل ہے۔اس کی اصل کمپنی بوسکالیس کے سی ای او برڈوسکی نے بتایا کہ ریسکیو کمپنی ایک ٹیم کو سائٹ پر تعینات کررہی ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ پاناما کے جھنڈے والے جہاز کو اتارنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ

رہے ہیں کہ اس میں کتنا تیل ہے، کتنا پانی ہے، یہ ایک پیچیدہ حساب کتاب ہے، میں قیاس آرائی میں نہیں جانا چاہتا تاہم اس میں دن یا ہفتوں لگ سکتے ہیں۔پلانٹ لیبز انکارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں نام نہاد میگاشپ کو دکھایا گیا ہے جو فٹ بال کے چار میدانوں سے لمبا ہے اور پوری نہر پر ترچھا کھڑا ہے۔بحیرہ روم اور بحر احمر اور نہر میں جہاں بحری جہاز انتظار میں ہیں وہیں ایس سی اے نے اعلان کیا کہ آبی گزرگاہ پر ‘عارضی طور پر نیویگیشن معطل کردی گئی ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…