جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

ٹڈی دل کا راج ،زراعت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

datetime 23  مارچ‬‮  2021 |

فیصل آباد(آن لائن)پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں کا کسان محنتی اور زمین سے محبت کرنے والا ہے۔ 80 فیصد آبادی کا حصہ اس شعبہ سے منسلک ہے زراعت کے شعبہ کو ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ زیادہ پیداوار کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کو ایک اناج گھر کے طور پر سمجھا جاتا ہے، مگر آج حالت یہ ہے کہ کسان پے در پے مصیبتوں اور آفتوں سے نیم جان پڑا ہے۔

زراعت مکمل تباہی کے راستے پر ہے پنجاب کے زرخیز میدانوں میں ابھی کئی جگہوں پر ٹڈی دل کا راج ہے۔ ٹڈی دل جانوروں کا چارہ بھی کھائے جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک کا کسان اس وقت اس قدر بے بس اور بے حال ہے کہ ہر دور میں کسی بھی حکومت نے اس کی حالت زار کی جانب کوئی توجہ نہیں دی اور دوسرا اسے ہر کوئی لوٹتا ہے لیکن یہ ہر کسی کے ہاتھوں لٹنے کے باوجود بھی ہر سال پھر اپنی فصل سے ہی پیار کر کے ایک بار پھر خوشحالی کے خواب دیکھتا ہے کہ شاید اس بار میری قسمت بدل جائے اسی امید پر اس کی بوائی کرتا ہے مگر اسے حکومتی رویوں اور دیگر مسائل سے پھر ایک بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ  ہمارا کسان دنیا بھر میں فی ایکڑ پیداوار حاصل کرنے میں اس وقت بہت پیچھے ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر دور میں حکومت ایسے بیج نہیں بنا سکی جو بدلتے موسموں میں بھی زیادہ پیداوار دیں اور مختلف بیماریوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب زراعت منافع بخش پیشہ نہیں رہ گیا، کسان کی حالت زار وقت کے ساتھ ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ کسانوں کے بچے با امر مجبوری صنعتی مزدور بنتے جا رہے ہیں۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت شروع ہے، جو مختلف شہروں میں جا کر اپنا روز گار کمانے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ اس وقت اس ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صرف شہروں میں رہنے والے لوگ ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہمارا کسان اور زراعت بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ان تمام وجوہات کی بنا پر کسان کے پیداواری اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ زراعت کسانوں کے لئے  گھاٹے کا سودا بنتا جارہاہے  دو نمبر بیج، کھاد، ڈیزل اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات نے کسان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ کسان اپنی زمین اور زراعت سے اس طرح جُڑا ہوا ہے کہ وہ اس شعبے کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…