اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ کی بجلی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری منظوری ملنے پر آئی ایم ایف کا پاکستان زندہ باد کا نعرہ

datetime 20  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ فوری اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا جارہا ہے جس کا مقصد بجلی صارفین سے اکتوبر تک 884 ارب روپے اضافی رونیو اکٹھا کرنا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق 5.65 روپے فی یونٹ اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جس کی وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو بجلی پر ریونیو بڑھانے کے لیے مزید 10 فیصد سرچارج لگانے کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ بجلی کی قیمت میں 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرسکے گی۔اس کا مقصد سرکولر ڈیٹ پروگرام پر عمل درآمد کرنا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ کابینہ کی طرف سے ان آرڈیننس کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ٹیریسیا دابا نے پاکستان زندہ باد کا ٹوئٹ کیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف قرضے کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے قرضے کے قسط کی منظوری کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے یونٹ اضافے کا مقصد بلز میں سے ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔

سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق اپریل 2021 سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جو جون 2023 تک جاری رہے گا۔بجلی کی قیمت میں دو بار اضافہ سالانہ ٹیرف ایڈجسمنٹ اور 4 سہ ماہی ایڈجسمنٹس کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے بعد 10 فیصد سرچارج شامل ہونے

سے قیمت 7 روپے فی یونٹ بڑھ جائے گی جس کا صارفین پر 934 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت سالانہ ٹیرف کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.95 روپے یونٹ کا اضافہ گزشتہ ماہ ہی کرچکی ہے۔ اضافی قیمت شامل کرنے سے بجلی کی قیمت میں مجموعی اضافہ 8.95 روپے فی یونٹ ہوجائے گا اور اس مد میں صارفین سے 1.134 ٹریلین روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…