جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کب تک ہم علی سدپارہ کی طرح عزت دینے کے لیے ایتھلیٹس کے مرنے کا انتظار کریں گے،پاکستانی ایتھلیٹ کیساتھ ٹی وی شو میں نارواسلوک پر یاسر حسین میزبان پر برہم

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) پاکستانی خاتون سائیکلسٹ ثمر خان کے ساتھ ٹی وی شو میں ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف یاسر حسین نے آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کب تک ہم علی سدپارہ کی طرح عزت دینے کے لیے ایتھلیٹس کے مرنے کا انتظار کریں گے۔پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان تنزانیہ میں واقع افریقا کی 5ہزار 895میٹر بلند ترین

چوٹی کیلمانجارو سر کرنے والی دنیا پہلی خاتون سائیکلسٹ ہیں۔ انہوں نے یہ چوٹی 2017میں سر کی تھی۔ ثمر خان ایک بہترین ایتھلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا فخر بھی ہیں۔ تاہم چند روز قبل ان کے ساتھ ایک ٹی وی شو کے میزبان نے نہایت ناروا سلوک کیا جس کے بارے میں انہوں نے ایک ویڈیو میں بات کی ہے۔ثمر خان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ کہتی نظر آرہی ہیں انہیں ایک ٹی و ی چینل کے شو میں بطور مہمان بلایا گیا تھا لیکن افسوس کی بات اس ٹی وی شو کے میزبان کو نہ تو میرا نام معلوم تھا نہ وہ میرے بارے میں کچھ جانتاتھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے شو میں آئوں۔ثمر خان نے کہا کہ جب وہ اس چینل میں گئیں تو ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا ہمیں کسی بھیڑ بکریوں کی طرح ایک کمرے میں رکھا گیا جہاں کوئی بنیادی سہولت تک موجود نہیں تھی لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہاں سوشل میڈیا انفلوئنسرز (جن کے سوشل میڈیا پر فالورز زیادہ ہیں)بھی موجود تھے جنہیں ہر طرح کی سہولت سے آراستہ لانج میں بٹھایا گیا اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا ہو پچھلے چار پانچ سالوں کے سفر میں ہم ایتھلیٹس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔ثمر خان نے کہا کہ یہ بہت عام بات ہے کہ ہم ایتھلیٹس کے مختلف ایونٹس اور ایوارڈ فنکشنز ہوتے ہیں لیکن ان

لوگوں کو ہمارے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جن کے صرف سوشل میڈیا فالوورز زیادہ ہوتے ہیں۔ثمر خان نے نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں صرف ایک پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اگر صرف فین فالووئنگ ہی سب کچھ ہے تو ایسا کریں آپ ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو ہماری چمپئن شپس میں بھی بھیجیں ، اولمپکس میں بھی

بھیجیں اور انہیں کہیں کہ آپ گولڈ میڈل لے کر آئیں۔ انہیں پارلیمنٹ میں بھی بٹھائیں تاکہ وہ لوگوں کے لیے فیصلے لے سکیں کیونکہ فالوورز بڑھنے کے ساتھ ساتھ تو ان میں محض دو دن میں دانائی اور علم کا بھی نزول ہوجاتا ہے اور ہر پیشے کا تجربہ بھی آجاتا ہے۔ثمر خان نے سوسائٹی میں فین فالووئنگ کی بڑھتی تعداد کے پیچھے بھاگنے والوں پر طنز کرتے ہوئے کہا جس طرح کی ہماری ترجیحات ہیں پاکستان بہت ترقی کرے گا کیونکہ گھٹیا

اینٹرٹینمنٹ اور فین فالووئنگ ہی لوگوں کے لیے سب کچھ ہے۔یاسر حسین نے ثمر خان کی بات سے اتفاق کیا اور انسٹا اسٹوری میں مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر، ہمامیر شاہ اور شفاعت سید سے درخواست کی کہ ثمر خان کو اپنے شوز میں مدعو کریں اور انہیں کم سے کم وہ عزت دیں جو ایتھلیٹس کا حق ہے۔ یاسر حسین نے مزید کہا کب تک ہم علی سدپارہ کی طرح ایتھلیٹس کو عزت دینے کے لیے ان کے مرنے کا انتظار کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…