منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی شہری نے 88ہزار امریکی ڈالرز کے عوض مارخور کا شکار کرلیا

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

چترال ( این این آئی) صوبہ خیبر پختونخوا ہ کے شہر چترال میں امریکی شہری نے 88ہزار امریکی ڈالرز کے عوض مارخور کا شکار کرلیا۔محکمہ تحفظ جنگلات کے مطابق چترال میں امریکی شہری نے 88ہزار امریکی ڈالر کے عوض مارخور کا شکار کیا جس کی پاکستانی روپے میں مالیت ایک کروڑ 30لاکھ روپے بنتی ہے۔

پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ اسکیم کے تحت ہر سال مارخور کے شکار کے لیے فی الحال 12لائسنسز جاری کیے جارہے ہیں۔اس سے قبل گزشتہ برس ایک شکاری نے نر مارخور کے شکار کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر کی رقم ادا کی تھی جبکہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ رقم مزید اوپر جائے گی تاہم کرونا وبا ء اور سفری مشکلات کی وجہ سے لائسنس فیس میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال الطاف علی شاہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہری ایڈورڈ جوزف ہڈسن نے یہ شکار 88ہزار امریکی ڈالرز کے عوض توشی شاشہ کے علاقے میں کیا۔الطاف علی شاہ نے بتایا کہ امریکی شہری نے رائفل کے ذریعے 40انچ کے سینگوں والے 10 سالہ مار خور کا شکار کیا۔ شکاری اس کے سینگ اپنے پاس عمر بھر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 40انچ سینگ والے مارخور کا شمار اچھے شکار میں ہوتا ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں ایک امریکی شہری نے ہی 85ہزار امریکی ڈالرز کے عوض مارخور کا شکار کیا تھا۔اس شکار کی منفرد بات یہ تھی کہ اسے شکاری نے بندوق کے بجائے تیر کمان کے ذریعے کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…