منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں میں سستی اور کاہلی انہیں کس خطرناک مرض میں مبتلا  کر سکتی ہے؟برطانوی ماہرین نے والدین کو خبر دار کردیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(یواین پی) برطانوی ماہرین نے ایک تفصیلی مطالعے کے بعد دریافت کیا ہے کہ جو بچے نوبلوغت کی عمر میں زیادہ وقت بیٹھے رہنے میں گزار دیتے ہیں، جب وہ بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے آرن کنڈولا اور ان کے ساتھیوں نے برطانیہ کے مختلف اسکولوں میں

پڑھنے والے 4200 بچوں کو اس مطالعے کیلیے بطور رضاکار بھرتی کیا جن کی عمریں بالترتیب 12، 14 اور 16 سال تھیں۔ پہلے مرحلے میں حرکت پر نظر رکھنے والے خصوصی آلات کے ذریعے کئی دنوں تک ان کا مشاہدہ کیا گیا، جس کے بعد مختلف سوالناموں کے ذریعے ان میں بیٹھے رہنے کی عادات اور ڈپریشن کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔ یہ مطالعہ تقریباً سات سال تک جاری رہا۔ مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ بیٹھے رہنے کے دورانیے میں ہر 60 منٹ اضافے کے ساتھ 12، 14 اور 16 سال عمر والے بچے جب بالغ ہوئے (یعنی 18 سال کی عمر کو پہنچے) تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی بالترتیب 11، 8 اور 10.5 فیصد زیادہ ہوگئے۔ ڈپریشن کا سب سے زیادہ خطرہ، یعنی 60 فیصد، اُن بچوں میں دیکھا گیا جو سب سے زیادہ سست تھے اور روزانہ 10 گھنٹے تک بیٹھے رہنے کے عادی تھے۔ البتہ، یہ بچے حرکت سے معذور نہیں بلکہ حد سے زیادہ آرام پسند ہیں اور کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی میں حصہ لینے سے جی چراتے ہیں۔ آرن کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کے نتائج اُن والدین کیلیے لمحہ فکریہ ہیں جو اپنے بچوں کو ہر وقت آرام دینا چاہتے ہیں حالانکہ نوبلوغت کی عمر (12 سے 17 سال) بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کیلیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اپنے بچوں کو آرام پسندی کی ترغیب دینے والے والدین صرف ان کی جسمانی صحت کے ساتھ ہی نہیں کھیل رہے بلکہ اس مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ وہ ان کی ذہنی صحت بھی تباہ کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…