اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں ہے کہ ہر کسی کو دی جائے  قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے اہم ریمارکس

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں ہے کہ ہر کسی کو دی جائے۔ بدھ کو قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید اور جسٹس ناصر محفوظ پر

مشتمل عدالت عالیہ کے 2 رکنی بینچ نے افغان خاتون کی پاکستانی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی۔افغان خاتون نے موقف اختیارکیا کہ وہ 1981 سے پاکستان میں ہے ، اس کے بچوں کے بھی شناختی کارڈ بنے ہیں لیکن اسے شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جارہا، عدالت سے درخواست ہے کہ اسے پاکستانی شہریت دی جائے۔دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں ہے کہ ہر کسی کو دی جائے، شہریت اور شناختی کارڈ جاری کرنے کے لئے ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ نادرا نے ماضی میں غلط طریقے سے لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کئے،وزارت داخلہ خاتون کا ریکارڈ چیک کریں اور کیس کو قانون کے مطابق دیکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…