ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

ایاز صادق کا بیان بالکل درست تھا پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو دو سے چار روز انتظار کر لیا جاتا،احسن اقبال بھی کھل کر بول پڑے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت ناکام اور نااہل ہے اوراپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے،ایاز صادق کی تقرری وزیر خارجہ سے متعلق تھی،ایاز صادق کا بیان بالکل درست تھا کہ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو دو سے چار روز انتظار کر لیا جاتا،اختر مینگل اور ثنا اللہ زہری کے درمیان ایک

تنازعہ ہے،حضور کریم ؐکاحکم ہے سچ بولوامانت میں خیانت نہ کرو ہمسائے سے حسن سلوک کرو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ اور مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے بھی شرکت کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اپنی نا لائقی اور نا اہلی کو چھپانے کے لئے غداری کے مقدموں کا سہارا لے رہی ہے،مسلم لیگ (ن)کا بیانیہ پاکستان بچانے کا بیانیہ ہے،ایاز صادق کی تنقید وزیر خارجہ سے متعلق تھی،کسی پاکستانی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے پاکستانی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دے،ایاز صادق کا بیان بالکل درست تھاکہ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا تو دو سے چار روز انتظار کرلیا جاتا،وزیر اعظم عمران خان نے جلدی میں کام لیا کیونکہ وہ دباؤ برداشت نہیں کر پائے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں،ادارے تبھی مضبوط ہوں گے جب آئین کے مطابق چلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دشمن کوجواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اختر مینگل اور ثنا اللہ زہری کے درمیان ایک تنازعہ ہے،ہم نہیں چاہتے تھے کہ ثنا اللہ زہری جلسے میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں اور میرے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہستی پر درود بھیجتے ہیں اور آپ بھی بھیجو،

نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر مسلمان کا رشتہ ایمان کا ہے،جس میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ہو وہ دل مردہ ہوجاتا ہے، ہمیں اپنے عمل سے نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ظاہر کرنی چاہیے،محبت تبھی کامل ہوتی ہے جب ساتھ اطاعت بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ امت اس لئے بے بس نظر آتی ہے کہ ہم نے عمل چھوڑ دیا

ہے،حضور نبی کریم ؐ کاحکم ہے سچ بولو، امانت میں خیانت نہ کرو، ہمسائے سے حسن سلوک کرو،ان چیزوں کا تعلق معاملات اور لوگوں کے ساتھ سلوک سے ہے،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دوچیزیں چھوڑ کر جا رہیں ایک قرآن اور دوسری سنت،قرآن اور سنت کو اپنا لیں تو ہم فقہ

کے معاملات حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو حق دینے میں پیچھے رہ گئے ہیں،ترقی کرنے میں کسی یہود اور ہنود نے ہمارا ہاتھ نہیں روکا،ہماری عدالتوں میں ارشد ملک جیسے فیصلے ہوتے ہیں،وہ قوم کامیاب ہوتی ہے جو، علم، عدل، محنت اور تاپ تول میں پوری اترے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…