کراچی (مانیٹرنگ +این این آئی)رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہاہے کہ ’’فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور پھرفرانسیسی صدر کی اس شر مناک حرکت کی پشت پناہی دنیا کی ڈیڑھ ارب عوام کے لیے ایک بہت بڑا المیہ اور ذہنی اور قلبی اذیت کا سبب ہے،توہینِ رسالت پر کسی سربراہِ مملکت کی حوصلہ افزائی پہلا واقعہ ہے۔اس نے مسلمانوں کے دل مجروح
کردیے ہیں اور یہ سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ مسلمان محبتِ رسول میں سرشار ہوکر اشتعال کی کیفیت میں کوئی جوابی کارروائی کریں اورپھر انہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر علامہ سید مظفر شاہ ، مولانا ریحان امجد نعمانی، مفتی عابد مبارک المدنی، مفتی غلام غوث بغدادی، مفتی محمد الیاس رضوی، مفتی نذیر جان نعیمی ، مولانا محمد اشرف گورمانی،مفتی رفیع الرحمن نورانی، علامہ لیاقت حسین اظہری ، مولانا صابر نورانی، ثروت اعجاز قادری،مولانا بلال سلیم قادری ، محمد شمیم خان ، سید عمیر الحسن برنی ، مولانا بختیار علی ،مولانا احمد ربانی بھی موجود تھے ۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہماری حکومت ، پارلیمنٹ اورسیاست دانوں نے مذمتی قراردادیں پاس کیں اور بیانات جاری کیے ، ہم اس کی تحسین کرتے ہیں ، لیکن حکومتوں کاکام صرف مذمتی قراردادیں پاس کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ عملی اقدامات بھی کرنے ہوتے ہیں ، جو تاحال نظر نہیں آرہے۔ اگر سفیر کو بلاکر احتجاج کا پروانہ ہاتھ میں دینے سے مسئلہ حل ہوتا تو ہماری وزارتِ خارجہ نے بھارتی سفارت کاروں کو گزشتہ برسوں میں اتنے احتجاجی پروانے دیے ہیں کہ’’ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘میں اس کا اندراج ہوسکتا ہے ، کم از کم اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر فرانس سے اپنے سفارت کارکو احتجاجاًواپس بلایا جائے اور فرانسیسی سفیر مرک بیریٹی کو
ملک بدرکیاجائے تاکہ فرانسیسی حکومت کو اس شرانگیزی اوردہشت گردی کی شدّت و حِدَّت کا صحیح ادراک ہوسکے۔فرانس میں بعض مساجد اور اسلامی مراکز کا بند کیا جانا آزادیِ مذہب کے خلاف ہے ، اس مسئلے کو یورپین یونین اور اقوامِ متحدہ کی سطح پر اٹھایا جائے۔پاکستان اورترکی کے سوا کسی مسلم حکمران کی جانب سے کوئی توانا ردِّ عمل نہیں آیا، اگر اسلامی کانفرنس کی
تنظیم ’’او آئی سی‘‘ مُردہ ہوچکی ہے تو پاکستان کو پہل کر کے خود کوئی بین الاقوامی سربراہی یا وزرائے خارجہ کی سطح پر کانفرنس منعقد کرنی چاہیے ۔ ہمیں اپنی حکومت کی مجبوریوں اور تحدیدات کا احساس ہے، لیکن ایمان اور عقیدے کا مسئلہ قیمت مانگتا ہے، آج کی دنیا میں بیانات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی مارکیٹوں میں
موجود فرانسیسی مصنوعات کی فہرست شائع کریں تاکہ لوگوں کو آگہی ہو اوربائیکاٹ مہم کی تشہیر کریں،نیزمتحرک مذہبی تنظیمیں تمام سپر اسٹورز کے سامنے نمایاں انداز میں یہ فہرستیں آویزاں کریں ، فرانس کی بیشتر درآمدات کا تعلق بنیادی ضرورتوں سے نہیں ہے ، بلکہ سامانِ تعیُّش سے ہے ، اس سے پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گااور یہ تنظیمیں وفد بناکر درآمد کنندگان
سے ملیں اور فرانسیسی مصنوعات کی درآمد کا سلسلہ رکوائیں ، کیونکہ حکومت کے لیے سرکاری سطح پر ایسا فیصلہ کرنا اگرچہ نہایت خیر کا باعث ہوگا، لیکن دشوار امر ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذہبی سیاسی جماعتیں حکومت سے ہٹ کر اسلام آباد میں مغربی سفارت کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ان کے سامنے اس مسئلے کی سنگینی کو پیش کریں ۔انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی
کے ایک پروفیسر نے لکھا ہے: ’’توہینِ رسالت کی ریاستی سرپرستی جنگی جرائم میں آتی ہے‘‘ ، اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے ، دوسال پہلے یورپین عدالت قرار دے چکی ہے کہ دینی مقدّسات کی توہین اظہارِ رائے کی آزادی میں نہیں آتی اور پریس فریڈم کا
اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ اگر دنیا دہشت گردی ، مذاہب ،تہذیبوں اور قوموں کے درمیان نفرت انگیزی کو ختم کرنا چاہتی ہے ،تو دینی مقدّسات کی توہین کوفکری اور نظریاتی دہشت گردی قرار دیا جائے اور عالمی سطح پر اس کے لیے قانون سازی کی جائے ۔