جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

صدر ، وزیر قانون اور وزیر اعظم کے مشیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، پاکستان بار کونسل بھی میدان میں آ گئی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان بار کونسل نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر مرزا سے فوری طور پر عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے، پاکستان بار کونسل کے وائس

چیرمین عابد ساقی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اعظم نذیر تارڑ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس غیر قانونی ، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دینے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے ، مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور اس کے اہلکاروں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل، عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس داخل کیا ، بیان میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر مرزا غیر آئینی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ریفرنس کے ماسٹر مائنڈ ہیں جب کہ صدر عارف علوی نے اپنا ذہن استعمال نہیں کیا۔ مشترکہ بیان میں صدر عارف علوی وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر مرزا سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظر ثانی کی اپنی درخواست میں مزید قانونی نکات پر متفرق درخواست بھی دائر کرے گی۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…