بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

گندم کا بحران، تندور مالکان کی 30 روپے میں روٹی فروخت کرنے کی دھمکی

datetime 16  اکتوبر‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن )کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ اور تندور مالکان روٹی کا ریٹ فکس نہ کر پائے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تندور مالکان نے 10 روپے اضافے کے ساتھ 30 میں روٹی فروخت کرنے کی دھمکی دے دی۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں گندم کے بحران کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کا مسئلہ جوں کا توں ہیں۔

جس کی وجہ گندم اور آٹے کے بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے جس کا اثر غریب عوام کی جیب پر پڑے گا۔جب کہ کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ اور تندور مالکان کے مابین اب تک ریٹ فکس نہ ہو پائے۔شہر میں شہری ہی نہیں مزدور، دکاندار اور دیہاڑی اور طبقہ بھی روٹی بازار سے خردی کر اپنا پیٹ بھرتا ہے۔مگر اس میں اضافہ ہوا تو غریب عوام کی پریشانی بڑھ جائے گی۔تندور مالکان کا کہنا ہے کہ آٹے کی 50 کلو والی بوری 4500 اور 100 کلو والی بوری کی 5 ہزار سے بڑھ کر 7 ہزار ہو گئی ہے۔ایسے میں 20 روپے میں روٹی فروخت کرنے میں نقصان ہو رہا ہے۔جب کہ گیس پریشر کم ہونے کے باعث سلنڈر کا الگ خرچا ہے۔لاکھوں کو بل بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے گندم کی قیمت میں اضافہ کیخلاف درخواست پر گندم کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار بارے رپورٹ طلب کر لی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست میں گندم کی قیمت میں اضافے کو چیلنج کیا گیا تھا ۔دوران سماعت عدالت نے گندم کی قیمت میں اضافہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ لاہورہائی کورٹ نے گندم کی قیمتوں کے تعین کے طریقے کار کے بارے رپورٹ طلب کرلی۔جب کہ وزیراعظم عمران خان نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے تجویز کردہ انتظامی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…