پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

لال مسجد سرکاری ،30 سے 40 طالبات نے کمرے بنا کر قبضہ کیا ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر نے حقائق بتا دئیے ، ہائیکورٹ کا کیس میںبڑا حکم جاری

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لال مسجد کا معاملہ حل کرنے کیلئے انتظامیہ کی وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 2007 میں جس طرح معاملات ہوئے اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ،انتظامیہ معاملے کو فوری حل کرے ۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی لال مسجد کی بندش کیخلاف شہداء فاؤنڈیشن کی درخواست پر کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا لال مسجد بند ہے جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد میں30سے 40طالبات موجود ہیں ،لال مسجد سرکاری مسجد ہے، طالبات نے مسجد میں کمرے بنا کر قبضہ کیا ہوا ہے ،لال مسجد کو جانے والا صرف ایک راستہ بند ہے،مسئلہ حل کر رہے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ کچھ وقت دیا جائے ۔اس موقع پر وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں خواتین کو وہاں سے ہٹائیں تاکہ مسجد کھل جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ خواتین کون ہیں ؟ وہ آپ کے ہی لوگ ہیں آپ بچیوں کو وہاں سے کہیں اور بھیج دیں جس پر طارق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کی ملکیت نہیں ،راستہ بند ہونے سے نمازیوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

شہداء فاؤنڈیشن شہداء کے ورثا کی تنظیم ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انتظامیہ کو اس مسئلے کو دیکھنا ہے کہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے ، طارق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے پہلے بھی امن قائم کیا تھا اب بھی کرسکتی ہے جس پر عدالت کے جج جسٹس محسن اختر کیانی

نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح 2007 معاملات ہوئے اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو معاملہ فوری قانون کے مطابق معاملہ حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی ۔یاد رہے کہ شہداء فاؤنڈیشن نے مسجد کی بندش کیخلاف عدالت سے رجوع کررکھا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…