ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

ارطغرل غازی ہمارا لازوال سرمایہ ترک صدر اردوان کا بیان توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2020 |

انقرہ(این این آئی)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہاہے کہ صدیوں تک تین براعظموں اور 7 مختلف مواسم پر حکمرانی کرنے والی تہذیب کا مالک ہونا ہمارے لیے باعث افتخار ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے 739 ویں سوغت ارطغرل غازی کی یاد میں منعقد خانہ بدوش فیسٹیول کے موقع پر پیغام جاری کرتے ہوئے کیا۔اردوان نے پیغام میں کہا کہ 1071 میں

ملازگرت کی فتح سے اناطولیہ کی سرزمین میں داخل ہونے والے چھوٹے سے قبیلے سے ایک عالمی ریاست کا روپ اختیار کرنے والی مملکت کی بنیاد رکھنے والے ارطغرل غازی اور اس کے بیٹے عثمان غازی دونوں کے لیے کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سپاہیوں کے سردار ار طغرل غازی کی بہادر، دانشمدی اور دور اندیشی کی ٹھوس بنیادوں پر ہماری قدیم تہذیب کے عروج میں بہت بڑا حصہ ہے جو ہم سب کے لیے باعث افتخار ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ار طغرل غازی کی نصحیتوں پر عملدرآمد کرنے والے ان کے صاحبزادے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنی والی سلطنتِ عثمانیہ کے منتظمین نے جہاں جہاں بھی قدم رکھا وہاں مساوات، عدل و انصاف، رواداری پر مشتمل نظام کو فروغ دیا۔اردوان نے کہا کہ ہم اپنے عظیم الشان ماضی اور روایات کے نمائندوں کی حیثیت سے آبائو اجداد کے ورثے پر بنے اس خطے اناطولیہ کو اپنے مادرِ وطن کی حیثیت سے ہمیشہ تحفظ فراہم کرتے رہیں گے، اس ملک کو مزید ترقی اور مضبوط بنائیں گے اور امن و خوشحالی قائم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سوغت میں منعقدہ ار طغرل غازی خانہ بدوش فیسٹیول، ماضی سے حال اور مستقبل تک ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔ترک صدر نے کہا کہ مجھے سلطان آلپ ارسلان سے ار طغرل غازی تک ۔ سلطان محمد فاتح سے لے کر غازی مصطفی کمال تک اس سرزمین پر اپنی مہر ثبت کرنے والے ہمارے آباو اجداد اور آپس میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی بھر پور کوششیں کرنے والے ہمارے ہیروز کی مغفرت کے لیے دعا گو ہوں اور ترک ہم وطنوں کو دلی جذبات سے سلام پیش کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…