جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

شہریوں کا تحفظ جن کی ذمہ داری ہے وہی قانون شکن بنے ہوئے ہیں، پاکستان میں قوانین صرف کمزور کے لئے ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ شدید برہم

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام تعمیراتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی منظوری لازمی قرار دے دی جبکہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ شہریوں کا تحفظ جن کی ذمہ داری ہے وہی قانون شکن بنے ہوئے ہیں، پاکستان میں قوانین صرف کمزور کے لئے ہے بااثر کے لئے کوئی قانون نہیں۔ ہفتہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ

کوئی بھی تعمیراتی منصوبہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی منظوری کے بغیر شروع نہیں ہوسکتا ۔ عدالت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے قوانین کی خلاف ورزی پر اقدام قتل کی کارروائی کا بھی عندیہ دیدیا ۔ عدالت نے وزیراعظم کے معاون خصوصی امین اسلم، سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، چئیرمین سی ڈی اے 22 اگست کو طلب کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کو ایکٹ کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کی جا رہی ہے، وفاقی ترقیاتی ادارے نے اسلام آباد کے نیشنل پارک کو بھی تباہ کردیا،عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل پارک سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجودہ ہے سی ڈی اے اس کابھی خیال نہیں رکھتی، اِس نے جوگورننس کا حال کردیا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے، جن کی ڈیوٹی شہریوں کا تحفظ ہے وہ تمام قانون شکن بنے ہوئے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محکمہ ماحولیات کے حکام سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ کے ادارے کے ہوتے ہوئے سب کچھ ہورہا ہے، کیا آپ سو رہے ہیں یا آپ کا ادارہ ختم کردیں؟ آپ آنے والی نسلوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں، صرف یہ بتا دیں آپ کے قانون کے مطابق آپ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں؟ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے نے موقف

اپنایا کہ سیکشن 16 ون کے تحت ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نوٹس جاری کرتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے پاس ازخود اختیارات بھی ہیں، آپ نے کہا سی ڈی اے نے اجازت کے بغیرکام شروع کیا تو کیا آپ نے نوٹس کیا؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی کرنا ہے توگڈگورننس کے لئے جو قوانین ہیں پھر ان کو ختم ہی کردیں، کئی فیصلوں میں لکھ چکے ہیں یہاں با اثرافراد کے لیے کوئی قانون ہی نہیں، قانون صرف کمزور کے لئے ہے۔ ریاست جنرل پبلک کی کوئی خدمت نہیں کر رہی وہ سب کچھ ایلیٹس کے لیے کرتی ہے، بڑی شخصیات کے لیے کہا جاتاہے ریگولرائز کردیں کمزور کو یہ سہولت میسر نہیں، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیسزبیک لاگ گورننس کے ناہونے کی وجہ سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…