ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ بینک کا پاک بھارت پانی کے تنازع پر ثالثی کرنے سے انکار

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)ورلڈ بینک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے طویل تنازع کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت کے تقرر سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرنے سے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو دو طرفہ طور پر ایک آپشن کا انتخاب کرنا پڑے گا۔

ایک انٹرویومیں ورلڈ بینک کے سابق کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان پیٹچاموتھو ایلنگوان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کو مل جل کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا آپشن اپنانا ہے۔ پیٹچاموتھو ایلنگوان نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی عدالت (سی او اے) کی تقرری کے لیے درخواست دی تھی جب کہ بھارت نے دو پن بجلی منصوبوں پر ان کے تنازع کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر طلب کیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ 1960 میں ہونے والے انڈس واٹرس ٹریٹی کے تحت دو متضاد پوزیشنز کی وجہ سے عالمی بینک دونوں حکومتوں کو اختلافات کے حل اور آگے بڑھنے کے لیے راہیں تلاش کرنے میں مدد فراہم کررہا تھا۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بینک اپنے کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ یہ 1960 کے معاہدے کے حصہ تھا تو انہوں نے کہا کہ معاہدے میں عالمی بینک کے آزادانہ فیصلہ لینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ورلڈ بینک نے سندھ طاس پر ترقیاتی کاموں کا حصہ بننے کا وعدہ کیا تھا اور پھر بھی اس نے دیامرـباشا ڈیم کو فنڈ دینے سے انکار کردیا ہے، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بینک داسو 1 اور 2 کی طرح دریائے سندھ پر دوسرے منصوبوں کی حمایت کررہا ہے، بھارت نے ایک متنازع علاقے میں دیامر بھاشا کے مقام پر اعتراض اٹھایا تھا اور متنازع منصوبوں کی مالی اعانت کرنا عالمی بینک کی پالیسی نہیں ہے۔پاکستان اس وقت سے ہی ورلڈ بینک کو یاد دلاتا آرہا ہے کہ وہ 1960 کے انڈس واٹرس ٹریٹی کے تحت اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرے تاکہ دو متنازع منصوبوں یعنی 330 میگاواٹ کے کشن گنگا اور 850 میگاواٹ کے رتلے پن بجلی منصوبوں پر خدشات کو دور کیا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے کہ بھارت اس معاہدے کی پاسداری کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…