بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دوسال بعد بھی حکومت کی کوئی سمت ہے اور نہ منزل ،حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے سیاست کو سازشوں اور الزامات کا کھیل بنا دیا ، سراج الحق کی دھماکہ خیز باتیں

datetime 30  جون‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے سیاست کو سازشوں اور الزامات کا کھیل بنا دیا ہے ،حکمران عدم برداشت اور غصہ و نفرت کے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں،کورننس میں بہتری لانے کے دعویداروں نے عوام کے دکھوں میں اضافہ کردیا ہے ،غیر سیاسی اور غیر منتخب لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا رکھا ہے ،حکومت بدترین گورننس کا نمونہ ہے ،

پی ٹی آئی نے اپنا منشور اور عوام سے کئے گئے تمام وعدے بھلادیئے ہیں،دوسال کے بعد بھی حکومت کی کوئی سمت ہے اور نہ منزل ،عمران خان کی وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری ہوگئی لیکن عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جے آئی کسان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور نائب امیرمیاں محمد اسلم بھی موجود تھے ۔ سراج الحق نے کہا کہ زراعت کی ترقی کے بغیر ملکی معیشت میں بہتری نہیں آسکی۔جب تک کسانوں کو کھیت اور مزدوروں کو کارخانے کی پیداوار میں شامل نہیں کیا جاتا کسانوں اور مزدوروں کے دن نہیں پھر سکتے ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غریبوں کامعاشی استحصال ملک کی ترقی اور خوشحالی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں زراعت کی بہتری اور کسانوں کی فلاح و بہبود کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔کسان اس لئے بھوکا سونے پر مجبور ہے کہ ملک میں جاگیرداری کا ظالمانہ نظام مسلط ہے ،اس نظام نے 73سال سے پاکستان کی زراعت کو جکڑ رکھا ہے ۔زمین چند خاندانوں اور دولت چند ہاتھوں میں سمٹ گئی ہے ۔کسان اپنا خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو پیٹ بھر کا کھلا سکتا ہے اور نہ انہیں پڑھا سکتا ہے ۔لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور وہ سارا ٹیکس جاگیر داروں اور کارخانہ داروں کی عیاشیوں پر خرچ ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام سے 42 قسم کا ٹیکس لیا جارہا ہے ۔

ظلم یہ ہے کہ جو ٹیکس صابن بنانے والے کارخانہ کے چوکیدار سے لیا جاتا ہے وہی اس کارخانے کے ملک سے لیا جاتا ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا جائے مگرمگر انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ زراعت اور معیشت کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ بنجر زمینوں کو آباد کیا جائے اور حکومت بنجر زمینوں کی آباد کاری کیلئے کسانوں کو بلاسود قرضے ،زرعی مشینری ،کھادیں اور بیج دے ۔جب زمین آباد ہوجائے تو اسے آباد کرنے والے کے حوالے کردیا جائے

تاکہ وہ کاشت کاری کرکے ملکی پیداوار میں اضافہ کرے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے ۔انہوں نے کہا کہ جاگیر داری نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔زرعی مقاصد کیلئے بلاسود قرضے دینے کیلئے بنک قائم کیا جائے ۔پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔پانی ذخیرہ کرکے ناصرف زمینوںکو سیراب کیا جاسکتا ہے بلکہ بجلی پیدا کرکے توانائی کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 12ہزار ارب روپے کا پانی ہرسال ضائع ہوجاتا ہے جبکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی بدترین کمی کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی کسان اضلاع کی سطح پر کسانوں کے سیمینار ز اور جلسے کرکے کسانوںکے مسائل کے حل کیلئے بھرپور تحریک چلائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…