جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ،ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے، قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے اہم ریمارکس

datetime 29  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ہیں،ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے۔

ادویہ کی قیمتوں کا تعین ایک دن میں ڈریپ کو کرنا چاہیے،ٹاسک فورس کا جواز قانون میں کسی جگہ نہیں،ڈی پی سی قیمتوں کا تعین کیا،حکومت نے ڈی پی سی کے فیصلے پر ٹاسک فورس بنادی،اس طرح تو ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس بنتی جائیں گی،ڈریپ ڈیپوٹیشن پر لوگ کام کر رہے ہیں،ڈریپ چاہتا ہے تمام کمپنیاں اس کے دروازہ پر آکر بیٹھی رہیں۔ معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت فارما سیوٹیل کمپنی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ادویات کی قیمت کے تعین میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی،حکومت نے جو ایس آر او جاری کیا وہ عدالت کے حکم کے مطابق نہیں تھا،عدالت نے ادویات کی قیمتیں دو ہزار تیرہ کی سطح پرفریز کرنیکاحکم دیا تھا۔ڈریپ ڈائریکٹر نے اس موقع پر عدالت کو بتایاکہ ادویہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ڈریپ میں ڈائریکٹر لیول پر کوئی ڈیپوٹیشن پر کام نہیں کر رہا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات آ چکی ہے، حکومت نے سفارشات پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا،ڈی پی سی کو قیمتوں کے تعین کا اختیارنہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک موقع پر کہا کہ حکومت غیر معینہ مدت معاملہ لیکر نہین بیٹھ سکتی۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر وفاقی حکومت کو ادویہ کی قیمتوں پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہو ئے معاملے کی سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…