منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

کم جونگ ان کی خاموشی کے پیچھے کونسی بڑی وجہ ہو سکتی ہے ، بڑا دعویٰ کر دیا گیا 

datetime 28  اپریل‬‮  2020 |

سیول(این این آئی)جنوبی کوریا کے حکام نے کہاہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی پراسرار خاموشی ان کی بیماری کے بجائے کورونا وائرس کے باعث ہوسکتی ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے وزیر برائے شمالی کوریائی امور کاکہنا تھاکہ کم جونگ ان 15 اپریل کو اہم دن کے موقع پر شاید کورونا وائرس کے باعث سامنے نہیں آئے ہوں۔خیال رہے کہ کم جونگ ان 15 اپریل کو

شمالی کویا کے بانی اور ان کے دادا کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسلسل ان کی سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھا جارہا ہے جبکہ ان کی صحت کے بارے میں متضاد رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں۔جنوبی کوریا کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہیں شمالی کوریا میں کوئی غیر معمولی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں اور کم جونگ ان کی صحت کے معاملات پر خبردار بھی کرچکے ہیں۔کورونا وائرس کے حوالے سے شمالی کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن وبا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ۔جنوبی کوریا کے وزیر کم یون کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان کی خاموشی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے کبھی بھی کم سنگ کی تقریب سے غیر حاضر نہیں رہے تھے لیکن کورنا وائرس کی تشویش کے باعث کئی تقریبات کو منسوخ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوری سے اب تک دو ایسے موقع آئے ہیں جب کم جونگ ان تقریباً 20 دن کے لیے نظر نہیں آئے ہوں اور میرے خیال میں کورونا وائرس کی صورت حال میں غیر معمولی نہیں ہے۔کم جونگ اْن کی موت کی افواہیں اس وقت پھیل گئیں جب ایک امریکی صحافی نے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ چینی ریاست ہانگ کانگ کے ایک ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کے سربراہ چل بسے۔اسی طرح امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں ہانگ کانگ کے ٹی وی چینل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کم جونگ اْن شدید علالت کے بعد چل بسے۔ساتھ ہی امریکی اخبارنے ایک جاپانی میگزین کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کم جونگ اْن کی موت نہیں ہوئی بلکہ ان کی صحت خراب ہے۔اس سے قبل بھی کم جونگ اْن کے شدید علیل اور دماغی طور پر مفلوج یا مردہ ہونے کی خبریں گردش میں تھیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…