منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گرم پانی سے نہانے سے کرونا وائرس کو روکا جا سکتا ہےیا نہیں؟ عالمی ادارہ صحت نے سادہ لوح عوام کو لوٹنے والے فراڈیوں کا پول کھول دیا

datetime 28  اپریل‬‮  2020 |

جنیوا(این این آئی )عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سادہ لوح عوام کو کورونا وائرس کے خاتمے کے نام پر لوٹنے والے فراڈیوں کا پول کھول دیا ہے جس کے تحت درجنوں کی تعداد میں ایسے طریقوں کی سختی سے مخالفت کردی ہے جس کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوام کو لوٹا جارہا تھا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں کرسکتا ،وائرس کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے ختم ہوسکتا ہے، لہذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔جبکہ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا کہ فائیوجی موبائل نیٹ ورک کورونا کے پھیلائو کا سبب نہیں بن سکتا، 25 سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا، ایک بار کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے، بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔دس سیکنڈ تک سانس روکنے اور خشک کھانسی نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ آپ کورونا سے محفوظ ہیں، الکوحل کا زیادہ استعمال آپ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کا سبب نہیں بن سکتا۔کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…