جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

راشن کی تلاش میں نکلیں یا اکلوتے معصوم بیٹے کی زندگی بچائیں؟ خون کی موروثی بیماری ہیموفیلیا کا شکار پانچ سالہ ایان ثاقب معذوری کا شکار ہونے لگا، رقم نہ ہونے کی وجہ سے علاج مکمل نہ ہو سکا، والدہ کی دردبھری باتیں

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) راشن کی تلاش میں نکلیں یا اکلوتے معصوم بیٹے کی زندگی بچائیں؟ خون کی موروثی بیماری ہیموفیلیا کا شکار پانچ سالہ ایان ثاقب معذوری کا شکار ہونے لگا۔ ننھے ایان کا والدمحمد ثاقب معمولی تنخواہ پر سیلزمین ہے۔ تفصیلات کے مطابق ننھے ایان کے ہمراہ اس کی والدہ قراۃ العین اور والد محمد ثاقب نے ناظم آباد میں واقع ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے ٹریٹمنٹ سینٹر پر پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ

ایک سال قبل ایان کی بائیں کہنی میں اندرونی بلیڈنگ ہوئی تھی، رقم کا انتظام نا ہونے کے باعث ایان کا علاج مکمل نا ہوسکا۔ مجبور والدہ کا کہنا تھا کہ وہاں ان کی اکلوتی اولاد ہے لیکن ان کے پاس اب اس کے علاج کی سکت نہیں ہے۔ والدہ نے بتایا کہ اب تک کا علاج ہیموفیلیا سوسائٹی نے کرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹ تو جیسے تیسے بھرلیں، علاج کیسے کرائیں، ان کی آنکھوں کے سامنے ایان معذورہورہا ہے اور وہ کچھ نہیں کرپارہے۔ والدہ نے بتایا کہ انہیں ایان کی بیماری کا چھ ماہ کی عمر میں پتہ چلا تھا، اس کے جسم پر نشانات آنے لگے تھے۔ پریس کانفرنس میں ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے بانی و صدر راحیل احمد، جنرل سیکریٹری شاہد داود، خزانچی فخرعالم زیدی اور سینئر میڈیکل افسر ڈاکٹر مشتاق میمن بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق میمن نے میڈیا کو بتایا کہ ایان کو خون روکنے والا عام انجکشن اثر نہیں کررہا، اسے اب خون روکنے والے مہنگے انجکشن کی ضرورت ہے، خون رکنے تک یہ انجکشن لگاتے رہنا ہو گا ورنہ بچہ معذوری کا شکار ہو جائے گا۔ ڈاکٹر مشتاق میمن کا کہنا تھا کہ انجکشن نا ملنے سے ایان کی زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موروثی بیماری ہیموفیلیا کا شکار بچوں کی اندرونی یا بیرونی بلیڈنگ ہو جاتی ہے جس کے بعد ان بچوں کے خون کا بہنا مخصوص انجکشن کے علاوہ نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرض میں پیدائشی طور پر خون میں جمنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ معمولی سی چوٹ، کٹ یا خراش لگنے یا خود بخود بھی جسم سے خون جاری ہوجاتا ہے،

ایسی صورت میں خون مسلسل بہتا رہتا ہے جس سے زندگی کو خطرہ ہوجاتا ہے، صدر ہیموفیلیا سوسائٹی راحیل احمد نے میڈیا کو بتایا کہ ہر 10 ہزار میں سے ایک بچہ ہیموفیلیا سے متاثر پیدا ہوتا ہے، پاکستان میں ہیموفیلیا کے مریضوں کی تعداد 20 ہزار ہے، صرف سندھ میں ہیموفیلیا کے 6000 مریض ہیں۔ راحیل احمد نے بتایا کہ ہیموفیلیا سوسائٹی کے پاس 700سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں، انہوں نے کہا کہ بہتے خون کو روکنے والا انجکشن

پاکستان میں نہیں بنتا نا حکومت منگواتی ہے، خون روکنے والا ایک انجکشن 10 ہزار روپے کا ہے، یہ انجکشن اگر اثر نا کرے تو پھر مزید مہنگا انجکشن 71 ہزار کا ایک لگانا پڑتا ہے۔ ایک مریض کو ہر ماہ 10سے 12 انجکشن لگتے ہیں۔ راحیل احمد نے کہا کہ ان بچوں کا علاج بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن وہ ایک روپیہ خرچ نہیں کرتی، کسی سرکاری اسپتال میں ہیموفیلیا کا علاج نہیں ہوتا، حکومت انجکشن بھی نہیں دیتی۔ راحیل احمد نے مخیر حضرات اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کریں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…