منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کووڈ 19 کی جان لیوا پیچیدگیوں سے بچانے والا طاقتور ہتھیار کونسا ہے؟ امریکا کی ورجینیا یونیورسٹی سکول آف میڈیسین کی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 20  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی )امریکا کی ورجینیا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش سے اس نئے نوول کورونا وائرس کی جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ کم کرنے مین مدد مل سکتی ہے۔تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ الگ تھلگ زندگی نہیں گزار سکتے، معمول کی ورزش ہماری توقعات سے فائدہ مند ہے جن میں سے ایک نظام تنفس کے سنگین امراض سے تحفظ بھی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کی سطح میں ورزش کے نتیجے میں اضافہ ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کے جان لیوا امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہ اینٹی آکسائیڈنٹ اس وقت بنتا ہے جب لوگ ایروبک ورزشوں جیسے جمپنگ، رسی کودنا، تیز چہل قدمی یا جاگنگ (ان میں سے جو گھر میں آپ اس وقت کرسکتے ہوں) کو عادت بنالیتے ہیں۔ماضی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں معلوم ہوا تھا کہ اس اینٹی آکسائیڈنٹ سے وائرسز کی صفائی ہوتی ہے اور انفیکشن کا دورانیہ مختصر کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے جو اس نئے وائرس سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہے۔یہ اینٹی آکسائیڈنٹس ایسے مضر فری ریڈیکلز کو ہدف بناتا ہے جو اے آر ایس کا خطرہ بڑھاتے ہیں جبکہ جسمانی ٹشوز کو امراض سے تحفظ کے ساتھ تکسیدی تنائو سے بھی بچاتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 120 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا جن میں سے بیشتر جانوروں پر ہوئی تھیں جبکہ کچھ سائنسدانوں نے اپنی لیب میں کی تھیں اور ورزش سے اینٹی آکسائیڈنٹس کی سطح میں اضافے کو دیکھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ قوی امکان نظر آتا ہے کہ ورزش سے اگر کووڈ 19 کی روک تھام ممکن نہیں تو کم از کم وہ پھیپھڑوں کے مسائل کی شدت کو ضرور کم کرسکتی ہے، درحقیقت دن میں کچھ دیر کے لیے ہی ورزش کرنا اس اینٹی آکسائیڈنٹ کے بننے کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایروبک کے ساتھ ویٹ ٹریننگ ورزشیں بھی موثر ہوسکتی ہیں کیونکہ جتنا زیادہ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ بنے گا، اتنا ہی فائدہ ہوگا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ دن میں کم از کم 30 منٹ تک ورزش کی جانی چاہیے کیونکہ اگر آپ کووڈ 19 کے خطرے سے دوچار نہ بھی ہو تو بھی سست طرز زندگی بھی پھیپھڑوں کے افعال اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔یہاں یہ خیال رہے کہ اس تحقیق میں ماضی کی تحقیقی رپورٹس کو بنیاد بنا کر یہ نتائج ظاہر کیے گئے اور کووڈ 19 کے مریضوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…