جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ووہان میں اس وبا کے آغاز پر ہر متاثرہ شخص نے اوسطاً اس وائرس کو آگے 5.7 افراد میں منتقل کیا،کورونا وائرس توقعات سے دوگنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، امریکی تحقیق کاروں نے انتہائی خوفناک بات کر دی

datetime 10  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سائنسدانوں نے کہاہے کہ ووہان میں اس وبا کے آغاز پر ہر متاثرہ شخص نے اوسطاً اس وائرس کو آگے 5.7 افراد میں منتقل کیا۔ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ووہان میں اس وبا کے آغاز پر ہر متاثرہ شخص نے اوسطاً اس وائرس کو آگے 5.7 افراد میں منتقل کیا۔امریکا کی لاس ایلموس نیشنل لیبارٹری نے اس مقصد کیلئے ریاضیاتی تجزیہ کیا اور ان کے بیان کردہ اعدادوشمار فروری میں عالمی ادارہ صحت اور دیگر پبلک ہیلتھ اداروں کے اعداد سے دوگنا زیادہ ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج چین میں وبا تک محدود ہیں مگر ان کا اطلاق دنیا کے دیگر حصوں میں بھی کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی روک تھام توقعات سے زیادہ مشکل ہے۔تحقیق کے مطابق اس پھیلاؤ کی رفتار کو ذہن میں رکھا جائے تو اس کی روک تھام کے لیے 82 فیصد آبادی میں اس کے خلاف قوت مدافعت ہونی چاہیے، اب یہ ویکسین کے ذریعے ہو یا بیمار ہونے کے بعد تندرست ہونے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس تحفظ کے بغیر بہت زیادہ سماجی دوری کی مشق کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس وقت اوسطاً ہر 5 میں سے ایک مریض میں اس کی تشخیص نہیں ہورہی۔دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے یہ طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کب اور کیسے لاک ڈاؤن کا خاتمہ کیا جائے، کیونکہ یہ بھی خدشہ ہے کہ پابندیاں ختم کرنے سے وائرس کی لہر ایک بار پھر زور نہ پکڑلے۔ نئی تحقیق کے نتائج جریدے ایمرجنگ انفیکشز ڈیزیز میں شائع ہوئے اور اس میں موبائل فون ٹریول ڈیٹا اور چینی صوبے ہوبے کے باہر کیس رپورٹس کو استعمال کرکے یہ تخمینہ لگایا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ مارچ میں چین اور جنوبی کوریا میں نئے مصدقہ کیسز کی تعداد میں کمی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وائرس کی روک تھام ممکن ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس وبا کا خااتمہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن یا قوت مدافعت سے ہی ممکن ہوسکے گا مگر اس وائرس سے شکار افراد دوبارہ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں یا نہیں، اس حوالے سے بھی ابھی تک سائنسدانوں کوئی واضح بات نہیں کرسکے ہیں۔

کچھ کے خیال میں ایک بار بیمار ہونے کے بعد اس وائرس کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا تاہم کوریا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے مطابق اس بیماری سے صحتیاب ہونے والے افراد میں کورونا وائرس دوبارہ بھی متحرک ہوسکتا ہے۔کم از کم جنوبی کوریا میں 51 کیسز میں ایسا ہوا ہے جو صحتیاب ہوئے مگر پھر ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔کورین ادارے کا کہنا تھا کہ یہ لوگ دوبارہ وائرس کا شکار نہیں ہوئے

بلکہ یہ ان کے جسم میں موجود وائرس ہی دوبارہ متحرک ہوگیا۔کورین سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل جیونگ یون کیونگ کے مطابق ہم اس حوالے سے ایک جامع تحقیق کررہے ہیں کیونکہ ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جب علاج کے دوران مریض میں ٹیسٹ ایک دن نگیٹو آیا مگر بعد میں مثبت ہوگیا۔ایک مریض کو اس وقت مکمل صحتیاب قرار دیا جاتا ہے جب اس کے 24 گھنٹے میں 2 ٹیسٹ کے نتائج نگیٹو آئے ہوں۔جنوبی کوریا ان ابتدائی ممالک میں سے ایک ہے جہاں اس وبائی مرض کے کیسز کی تعداد اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، مگر فروری کے اختتام سے نئے کیسز کی شرح میں نمایاں کمی آچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…