اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کوئی مجھے وہ نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے؟ جہانگیر ترین نے انتہائی اہم بات کرتے ہوئے عہدے سے ہٹائے جانے کی تردید کر دی

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کو آٹا و چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق چینی اور آٹا بحران کے بارے میں رپورٹ آنے کے بعد جہانگیر ترین کو عہدے سے ہٹایا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف مزید کارروائی چینی و آٹا بحران انکوائری کمیشن کی سفارشات کے بعد ہوگی۔

اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ترجمان برائے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل نے ٹوئٹ کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ جہانگیر ترین کو چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔دوسری جانب جہانگیر ترین نے یہ خبر سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ یہ خبر بالکل بھی درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی کسی ٹاسک فورس کا چیئرمین رہا ہی نہیں، کوئی مجھے وہ نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے جس میں میری چیئرمین تعیناتی کا ذکر ہو؟ برائے مہربانی اپنی معلومات درست کرلیں۔قبل ازیں اپنے ایک اور بیان میں جہانگیر ترین نے بتایا کہ میں شوگر انکوائری کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہوں، کمیشن میری تین ملز سمیت 10 شوگر ملز کے حوالے سے تحقیقات میں مصروف ہے، ہم سے جو ریکارڈز مانگے جارہے ہیں وہ ہم دے رہے ہیں اور ہم نے اپنے سرور تک بھی رسائی دے دی ہے۔جہانگیر ترین نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی چیز ضبط نہیں کی گئی کیوں کہ ہم تمام مطالبات پورے کررہے ہیں، ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔خیال رہے کہ 4 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی۔تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔وزیراعظم عمران خان نے معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ذمہ داری سونپی تھی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فورنزک آڈٹ کا انتظار کررہے ہیں جو 25 اپریل تک کرلیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…