بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

فوج کے خلاف بیان سے سسٹم نہیں زرداری کو خطرہ ہے، عمران خان

datetime 22  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ زرداری کے فوج کیخلاف بیان کے بعد سسٹم کو نہیں زرداری کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔چیف جسٹس ناصر الملک اور پاکستان کی عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ آیا وہ اسے قبول کریں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات ہورہی ہے جس سے انتخابی نظام میں انقلاب آجائیگا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جمہوریت کے نام پر اور حکومت کی پشت پناہی میں قبضہ مافیا اور بھتہ خور کھل کر لوٹ مار کر رہے ہیں اور لوٹا جانے والا پیسہ دبئی منتقل کیا جا رہا ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران دبئی میں 40 ارب روپے کی جائیداد خریدی گئی ہے اور اگر کوئی انکے راستے میں آئے تو کہتے ہیں جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے آپس میں طے کیا ہوا ہے کہ آپس میں نہیں لڑنا کیونکہ جب ہم لڑتے ہیں تو فوج آجاتی ہے، ان کی چارٹر آف ڈیموکریسی ہے کہ تم مجھے نہ چھیڑو اور میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔لندن میں طاہرالقادری سے ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ طاہر القادری کا اپنا ایک ایشو ہے ان کے لوگوں کو حکومت نے پولیس کے گلو بٹوں سے مروایا اور آج ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور انھیں انصاف نہیں ملا۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارا اپنا ایشو ہے، ہم الیکشن 2013میں دھاندلی کی بات کر رہے ہیں، برما کے مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی ممالک خاموش ہیں کوئی کچھ نہیں کررہا اگر کسی اور مذہب کے لوگ مر رہے ہوتے تو آج ساری دنیا اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر جمع ہوتی۔ایک پاکستانی نجی خبررساں ادارے کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ زرداری کے فوج کیخلاف بیان کے بعد سسٹم کو نہیں زرداری کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں ہونیوالا میثاق جمہوریت چارٹر آف مک مکا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…