بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر آپریشن؛ منشیات کا کاروبار ختم، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں نمایاں کمی

datetime 22  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک بھرمیں خصوصاً قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کونہ صرف غیرملکی امداد بلکہ اغوابرائے تاوان اورمنشیات کا کاروبار زندگی فراہم کررہا تھا لیکن پشاور سے ملحق قبائلی علاقے میں جاری آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش خاصی کامیاب رہی ہے۔پچھلے 3ماہ کے دوران صرف خیبر ایجنسی سے سیکیورٹی فورسزنے ایک ارب ڈالرسے زائدکی منشیات قبضے میں لیں اور ساتھ ہی اغواکاروں کے اڈے مسمار کردیے جس سے پشاور شہرمیں اغوا کی وارداتیں 70فیصد کم ہوگئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کیلیے مالی معاونت کے2 بڑے ذرائع اغوا برائے تاوان اور منشیات کاکاروبار تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے تیراہ کے علاقے باغ میدان کوقبضے میں لینے کے بعدوہاں سے چرس اور افیون کی کاشت ختم کر دی۔ باغ میدان پر جب فورسز نے قبضہ کیاتو فرار ہونے والے دہشت گردوں نے منوں کے حساب سے چرس، افیون اور ہیروئن کے ذخیرے کو آگ لگادی۔ یہ آگ ایک ہفتے تک جلتی رہی جس سے اندازہ ہوتاہے کہ کتنی مقدارمیں منشیات ذخیرہ کی گئی تھیں۔سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ صرف مارچ سے اب تک سیکیورٹی فورسزنے ایک ارب 80کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کی منشیات قبضے میں لی جبکہ دسمبر2014 سے مارچ تک تقریباً 5ارب 95کروڑ روپے کی منشیات قبضے میں لی گئی۔ صرف پچھلے 3مہینوں میں 2لاکھ 72ہزار کلوحشیش، 12ہزار کلوگرام ہیروئن، 389من افیون اور 70 کلوکے قریب وہ کیمیکلز پکڑے گئے ہیں جوہیروئن کی تیاری میں کام آتے ہیں۔ یہ کیمیکلز انڈیاکے تیارکردہ تھے۔ بتایا گیاہے کہ دہشت گرد تنظیموں نے منشیات کے اس کاروبار سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے اپنی رسیدیں بھی چھاپ رکھی تھیں۔تیراہ کے باغ بازار کے دکاندارایک لاکھ روپے ٹیکس دینے کے پابند تھے توکھیتوں پر 50ہزار من کے حساب سے ٹیکس لگایا گیاتھا۔ اس طرح چیک پوسٹ پرایک ہزارروپے کلوکے حساب سے ٹیکس لیا جاتاتھا جبکہ باڑہ میں منشیات کے کارخانوں پر 1100روپے کے حساب سے دہشت گردٹیکس وصول کرتے تھے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن خیبر ون اور ٹو کی کامیابی سے جہاں منشیات کا کاروبار ختم ہوگیا ہے وہاں فورسزنے پوست کی کاشت پربھی سختی سے پابندی عائد کررکھی ہے جس سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے راستے ختم ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…