جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کو بھارتی بندروں سے خطرہ ،جانتے ہیں امریکی صدر کو بچانے کیلئے بھارتی اہلکاروں کوکیا چیز تھما دی گئی

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

آگرہ( آن لائن ) بھارتی پولیس نے صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت پر انہیں آوارہ بندروں سے بچانے کے لییاپنی غلیلیں تیار کرلی ہیں۔ پولیس کا خاص دستہ تاج محل پر موقع پر ان کی حفاظت کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل  24 فروری کو بھارت آرہے ہیں جہاں وہ آگرہ جاکر تاج محل دیکھیں گے۔

تاج محل کی اطراف میں انتہائی متحرک مکاک بندروں کے غول موجود ہیں۔ بندروں کی تعداد 500 سے 700 بتائی جاتی ہے اور وہ یہاں آنے والے سیاحوں سے اشیائے خوردونوش چھین کربھی لے جاتے ہیں۔اس دوران ٹرمپ کئی شہروں کا دورہ بھی کریں گے اور تاج محل کے لیے آگرہ بھی جائیں گے۔ دوسری جانب آگرہ کے رہائشی ان بندروں سے پریشان ہیں جبکہ بچوں پر بندروں کی جانب سے حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔آگرہ کی رہائشی ایک خاتون نے بتایا کہ ہم بندروں سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ بچے اور خواتین گھروں کی چھت پر جاتے ہوئے ڈرتے ہیں جہاں ان بندروں کا راج ہے۔ اگر یہ بندر صدر ٹرمپ پر حملہ کردیتے ہیں تو یہ بہت برا ہوگا۔ اس ضمن نے آگرہ کی حکومت نے ہرممکن قدم پر زور دیا ہے۔ٹرمپ کے دورہ تاج محل کے موقع پر ایک جانب تو پولیس کے دستے کو غلیلیں دی گئی ہیں تو دوسری جانب خفیہ اہلکار بھی صدر ٹرمپ کو بھرپور تحفظ فراہم کریں گے۔ دوسری جانب تاج محل میں سیکیورٹی کے سربراہ برج بھوشن نے کہا کہ بندر غلیلوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اگر صرف غلیل ان پر تان دی جائے تب بھی وہ فرار ہوجاتے ہیں۔تاج محل میں بھی سیاحوں پر بندروں کے ہولناک حملے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ 2018 میں دو فرانسیسی سیاحوں پر بندروں نے اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب وہ سیلفی لے رہے تھے۔ اس سے قبل ایک خاتون کی گود سے بندر نومولود بچہ چھین کر لے گئے تھے اور اسے زمین پر پٹخ کر دے مارا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…