بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سٹے آرڈر ختم ہوتے ہی اسحاق ڈار کے گھر کا کیا کیا جائے گا ؟ پنجاب حکومت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ عدالت نے پنجاب حکومت کو اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کی ملکیت سے بے دخل نہیں کیا،ہماری حکومت نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر سرکاری دفتر بنانے کی بجائے غرباء کیلئے وقف کیا،سٹے ختم ہونے کے بعد رہائش گاہ کو آئین و قانون کے مطابق

پھر پناہ گاہ میں بدل دیں گے۔وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کے سامنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسحاق ڈار نے 130ارب روپے کی کرپشن کی، آل شریف کے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔عدالت نے وقتی طور پر سٹے دیا ہے، سٹے کے باعث پناہ گاہ سامنے پارک میں منتقل کی ہے۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ اسحاق ڈار کی آل شریف کیلئے خدمات کی وجہ سے شہبازشریف پنجاب حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔زرداری، مولانا فضل الرحمن، شریف برادران سب کو غریبوں کیلئے پناہ گاہ بنانے پر پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔آل شریف کو مستقبل میں جاتی عمرہ میں بھی پناہ گاہ بنتی نظر آ رہی ہے۔زرداری صاحب کو اسلام آباد کے زرداری ہائوس کی فکر پڑ گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار غریبوں سے محبت کی بناء پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ اسحاق ڈار کی اہلیہ نے جھوٹ بولا کہ رہائش گاہ ان کے نام ہے۔یہ پناہ گاہ تمام مستحق اور نادار افراد کیلئے قائم کی گئی ہے، علاقے کی قید نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آٹے اور چینی کے بحران کے پیچھے اپوزیشن کی سازش اور پلاننگ ہے۔سندھ کے گوداموں سے 80فیصد گندم چوری کی گئی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ صرف 12فیصد شوگر ملیں پی ٹی آئی کے لوگوں کی ہیں۔72فیصد شوگرملوں کے مالکان اپویشن کے لوگ ہیں۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ پنجاب میں آٹے کا کسی قسم کا بحران نہیں۔عمران خان کے وژن کی بدولت پاکستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلے شروع ہوئے۔پارک میں پناہ گاہ کے قیام کے بارے میں عدالت کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…