بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

’’ ایسی محنت کوئی نہیں کرسکتا اللہ ایسی محنت کسی سے نہ کرائے‘‘ مراد سعید کی محنت کا پورے پاکستان کو پتہ ہے ، ہمیں یہاں کہتے ہوئے شرم ۔۔۔ ان کے بھائی نے ایک دن میں کتنے پیپر پاس کیے ، اپوزیشن کا جوابی وار

datetime 11  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی ) اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عبد القادر پٹیل نے کہاکہ جتنا انسان کا قد ہوتا ہے اتنی پزیرائی ملتی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے کچھ الفاظ حزف کرادئیے ۔ عبد القادر پٹیل نے کہاکہ یہ بڑی الگ سی محنت کرکے آیا ہے ایسی محنت کوئی نہیں کرسکتا اللہ ایسی محنت کسی سے نہ کرائے ۔عبد القادر پٹیل نے کہاکہ اس بھائی نے ایک دن میں چار پیپر پاس کئے ہیں ،

ان کے والد کو آسٹریلیا میں پڑھائی نہیں کرنے دی جاتی ۔عبدالقادر پٹیل نے مراد سعید کو طفل عمرانہ کہہ دیا ۔ انہوںنے کہاکہ مرادسعید کی محنت پورے پاکستان کو پتا ہے ہمیں یہاں کہتے ہوئے شرم آتی ہے، ہم دیوار کے پیچھے نہیں دیکھ سکتے مگر دیوار پہ چڑھ کے ضرور دیکھا ہے، یہ پہلی بار حکومت بھاگ رہی ہے۔عبدالقادر پٹیل کے خطاب کے دوران حکومتی بینچز سے کتے کی ویکسین کی آواز یں آئیں ۔ عبد القادر پٹیل نے کہاکہ کتے کی ویکسین کس کو لگوانی ہے،ویکسین لگائوں کیا ،عبدالقادر پٹیل کے برجستہ جواب پر اپوزیشن کے قہقہے لگائے گئے ۔انہوں نے دوائیں اس لئے مہنگی کیں تاکہ ان کا دم درود کا کاروبار چلے ،جب دوائیں مہنگی ہوں گی تو لوگ دم درود کی طرف جائیں گے ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ آپ دم درود کو درمیان میں نہ لائیں، دم درود میں برکت ہوتی ہے نبیؐ کے نام میں برکت ہوتی ہے بزرگان کے بارے ایسی بات مت کریں۔ عبد القادر پٹیل نے کہاکہ اس حکومت کا آغاز انڈے مرغی سے شروع ہوکر چرس پر ختم ہوتا ہے،یہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو ٹیکے سے حوریں دیکھتا ہے ،جو درخت رات کو آکسیجن چھوڑنے کی بات کرتا ہے ،اس شخص کا مجسمہ عجائب گھر میں رکھوا دو،اس نے نرسوں کی بھی بے عزتی کی ہے ،اس کو نکالو اس صورتحال سے ورنہ یہاں نہیں ہونے والا ،اگر میری قیادت کی توہین کرے گا تو پھر میں بھی کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔ انہوںنے کہاکہ نرسیں دن رات ہماری خدمت کرتی ہیں، ان کو حوریں کہا جاتا ہے،اس کو نکالو اس کام سے بھائی ، پھر ہی ملک کا کچھ ہوگا،جن کو ہم بہنیں کہتے ہیں، ان کو حوریں کہہ کر توہین کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…