جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سرکاری حج اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ، ارکان پارلیمنٹ کی سفارش پر 2 ہزار افراد جائینگے،اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پہلی بار کوٹہ مختص

datetime 11  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے سرکاری حج اسکیم میں ارکان پارلیمنٹ کا کوٹہ بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ارکان پارلیمنٹ کی سفارش پر 2 ہزار عازمین حج پر جائیں گے۔حج پالیسی 2020 مرتب کرلی گئی ہے جو منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کی جائے گی۔

رواں سال حج پیکیج ساڑھے پانچ لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے اور سرکاری حج اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت ایک لاکھ 13 ہزار روپے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔دستیاب دستاویز کے مطابق 2020 میں ایک لاکھ 79 ہزار210 پاکستانی حج پر جائیں گے، حج کوٹے کا 40 فیصد حصہ پرائیویٹ حج اسکیم کو دیا جائے گا جبکہ گزشتہ تین سال سے قرعہ اندازی میں ناکام رہنے والے عازمین کو بغیر قرعہ اندازی منتخب کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ میں پیش کی جانے والی حج پالیسی کے مطابق 70 سال سے زائد عمر شہریوں کے لیے دس ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے، پہلی بار حج پالیسی میں اووسیز پاکستانیوں کے لیے ایک ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔سرکاری حج اسکیم میں سے ڈیڑھ فیصد ہارڈشپ کوٹہ مختص کیا گیا ہے جو تقریبا 2700 افراد بنتے ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی درخواست پر 2 ہزار افراد کا کوٹہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کی صوابدید ہوگا۔ ارکان پارلیمنٹ کی سفارش پر یہ 2 ہزار عازمین حج پر جائیں گے۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے کوٹے اور سرکاری مراعات ختم کرکے میرٹ پر حج قرعہ اندازی کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…