بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

شریف خاندان ، اسحاق ڈار لندن میں پناہ لئے ہوئے ہیں،ان سے زیادہ پناہ گاہ کی اہمیت کا کس کو احساس ہوگا؟سابق حکمرانوں پر طنز

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ شریف خاندان اور اسحاق ڈار لندن میں پناہ لے کر بیٹھے ہیں اور شریف خاندان اوراسحاق ڈار سے زیادہ پناہ گاہ کی اہمیت کا  کس کو احساس ہوگا ،اپوزیشن کو صرف یہ تکلیف ہے کہ عمران خان غریبوں کا کیوں سوچ رہا ہے۔

ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ اگر لندن میں بیروزگاری الائونس دیا جاتا ہے تو کیا روزگار نہیں دیا جاسکتا، پناہ گاہ دوسرے شہروں سے آنے والے غریب طبقات کے لئے قائم کی گئی ہیںانہوں نے کہا کہ روپے کی قدرگرنے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آیا اور مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خزانہ  مفتاح اسماعیل کہہ چکے ہیں روپے کی قدرمصنوعی رکھی گئی، اسحاق ڈار نے روپے کی قدر گرنے نہیں دی اس لیے نقصان ہوا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 ارب روپے یوٹیلٹی اسٹورز کو سبسڈی کی مد میں دیا گیا ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوگئی ہیں، حکومتی اقدامات کے ثمرات آئندہ چند ماہ میں نظرآئیں گے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…