بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

یوٹیوب چینلز پر پابندی کا معاملہ ، پیمرا نے بڑا اعلان کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ نے کہا ہے کہ دنیا جتنی بھی ترقی کر لے کتاب کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا،ایک ایوریج کے مطابق امریکی صدر ہفتے میں 4 کتابیں پڑھتا ہے کیونکہ اس نے دنیا کو لیڈ کرنا ہے تو اس کے لئے آئیڈیا ضروری ہیں جو صرف کتابوں سے مل سکتے ہیں۔

یو ،ٹیوب چینلز کے حوالے سے سفارشات طلب کرنے کے لئے ویب پر خط ڈالا گیا ہے ،پیمرا کا یو ٹیوب چینلز پر پابندی کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے ایکسپو سنٹر لاہور میں34 ویں بک انٹرنیشنل ایکسپو کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ چیئرمین پیمرا نے مختلف سٹالز کا دورہ بھی کیا۔ بک ایکسپو میں ملکی اور غیر ملکی پبلشرز نے سٹال لگائے ہیں جہاں مختلف کتابیں بازار سے کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پیمرا نے کہاکہ بک فیئر دیکھ کر خوشی ہوئی اور یہ ثابت ہوا ہے کہ ہمارا معاشرہ زندہ ہے ، آج کے دور میں کتب بینی کے رجحان میں کمی ہوئی ہے ۔ اگر دنیا کو دیکھنا ہے تو کتب بینی کا شوق پیدا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ تین سے چار ماہ میں نئے ٹی وی چینلز کو لائسنس دیںگے ، پیمرا آزادی صحافت پرکوئی پابندی نہیں لگا رہا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…