بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر، کس وزارت نے عمران خان کو پورا سپورٹ نہیں کیا؟شیریں مزاری کابینہ میں شامل اپنے ہی ساتھی پر برس پڑیں

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(سی پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارے اداروں خصوصا وزارت خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کو پورا سپورٹ نہیں کیا۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی۔

مولانا عبدالشکور نے کہا کہ صرف کشمیر نہیں پورے بھارت کے مسلمان ظلم کا شکار ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہئے۔سردار نصر اللہ دریشک نے کم حاضری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ میری پچاس سالہ سیاسی زندگی کا سب سے اہم ایشو کشمیر ہے، آج قومی اسمبلی کا خالی ایوان ہماری منافقت کا اعلان کررہا ہے، کل تک آرمی ایکٹ،اٹھارہویں ترمیم، تنخواہوں کے معاملہ پر یہ ایوان کچھا کچھ بھرا ہوا تھا، کاش آج ہم کشمیر پر بھی اسی طرح اکٹھے ہوجائیں۔شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے کشمیر پر کچھ نہیں کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے متعدد بار کشمیر کے حوالے سے بیانات آئے، سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، یورپی یونین نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی، آزاد کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فورس موجود ہے، ہمیں اقوام متحدہ کی امن فورس مقبوضہ کشمیر لگانے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کشمیر پر ہمارے ادارے خصوصا وزارت خارجہ پوری طرح وزیر اعظم کو سپورٹ نہیں کرسکی، پاکستان کو سفارتی، سیاسی، اخلاقی حمایت سے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں خواتین اور بچوں کے عالمی فورمز پر کشمیر کے مظالم اٹھانے چاہئیں، جنرل اسمبلی سے پانچ اگست کے بعد کی صورتحال پر ایڈوائزری قرارداد لینی چاہئے۔علی گوہر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، آزاد کرا کے رہیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ جو چائے بھارت کو پلائی تھی اب تک اس کی گرمی محسوس ہوتی ہوگی، آئندہ ایسی کوئی حرکت کی تو پھر چائے پیش کریں گے، جنگ چاہتے ہیں تو لڑنا بھی آتا ہے اور امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، امن چاہتے ہیں لیکن عزت کا سودا نہیں کریں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…