بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

روٹھے ہوؤں کو منانے کا سلسلہ جاری، بڑی دیر کر دی مہربان آتے آتے، خالد مقبول صدیقی کے ان الفاظ کا چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کیا حیران کن جواب دیا

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہاہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ہمارے ساتھ رہے،خالد مقبول سمجھدار آدمی ہیں، ان کو چاہیے کہ واپس آجائیں تاکہ لوگوں کی خدمت کابینہ میں بیٹھ کر کرسکیں جبکہ ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ حکومت کا ہر مشکل مرحلے میں ساتھ دینے کا وعدہ پورا کیا ہے اور آئندہ بھی پورا کریں گے تاہم میرے وزارت میں بیٹھنے سے کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

اتوارکوچیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم)پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آبادکادورہ کیا،جہاں انہوں نے ایم کیوایم قیادت اور رابطہ کمیٹی سے ملاقات بھی کی،دوران ملاقات خالد مقبول صدیقی نے صادق سنجرانی سے کہا کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے، اس پر چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ میں پہلے بھی آیا تھا لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ قبل ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی جب ایم کیوایم مرکزپہنچے تو،ایم کیو ایم کے سینئرڈپٹی کنوینرعامرخان اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، فیصل سبزواری، امین الحق، سینیٹر نصیب اللہ اور سینیٹر احمد خان بھی موجود تھے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایم کیو ایم مرکز پہنچے تو سلام دعا کے بعد کراچی اور اسلام آباد کے موسم کا ذکر چلا۔فیصل سبزواری نے چیئرمین سینیٹ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں تو آپ کو گرمی محسوس ہو رہی ہو گی؟،صادق سنجرانی نے جواب دیا کہ کراچی کا موسم تو زبردست ہے۔فیصل سبزواری نے کہا کہ کراچی کی نسبت اسلام آباد میں زیادہ ٹھنڈ ہے، ہمیں تو کوئٹہ کے توسط سے ہی ٹھنڈ ملتی ہے۔صادق سنجرانی نے کہا کہ میں یہی کچھ لے کر یہاں آیا ہوں، میرا ساتھ دیں۔خالد مقبول نے چیئرمین سینٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔صادق سنجرانی نے کہا کہ میں تو پہلے بھی آیا تھا، آپ سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی، کراچی کے موسم کے ساتھ سیاست کا موسم بھی گرم چل رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ کی کابینہ سے علیحدگی کی خبر سنی تو دلی افسوس ہوا۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اتحاد کیا ہے، وزارتیں تو آنی جانی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ اس حوالے سے حکومتی کمیٹی کام کر رہی ہے، جلد کامیاب ہوں گے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہماری کمیٹی شروع سے ایک ہے، البتہ حکومتی کمیٹی کئی مرتبہ تبدیل ہو چکی۔اس موقع پر ایم کیو ایم رہنما عامر خان نے کہا کہ بس انتظار ہے کہ معاملات پر پیش رفت کب ہو گی۔بعد ازاں میڈیا سے مشترکہ بات چیت میں خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ صادق سنجرانی نے اتنے عرصے سے جس طرح سینیٹ کو چلایا ہے یہ ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں کوئی بھی زیادتی ہوئی تو ایم کیو ایم نے اس کی آواز ضرور اٹھائی ہے اور آج ہم نے ایک دوسرے کے مسئلوں پر آواز اٹھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیاہے۔انہوں نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ایم کیو ایم کے مرکز آنے کا شکریہ ادا کیا۔صادق سنجرانی نے کہا متعدد بار کراچی آیا تو یہ یہاں نہیں ہوتے تھے، ہم نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا شکریہ ادا کرنے ضرور ان کے دفترآؤں گا۔انہوں نے کہاکہ قومی امور پر ایم کیو ایم کے ساتھ ہر قسم کا کردار ادا کیا، پاکستانی عوام کے لیے اور پاکستان کے لیے میں ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی رہنما اور سربراہ جام کمال بھی یہاں آنا چاہتے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔چیئرمین سینٹ نے کہاکہ خالد مقبول سمجھدار آدمی ہیں، ان کو چاہیے کہ واپس آجائیں تاکہ لوگوں کی خدمت کابینہ میں بیٹھ کر کرسکیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری جہاں ضرورت پڑے گی وہان حاضر ہوجاؤں گا، پاکستان کے لیے کسی بھی شخص کے گھر جانے کے لیے تیار ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…