بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

یہ اچھی روایت نہیں، طے شدہ معاملات پر عملدرآمد ہو جائے پھر اگلی بات ہوگی، ہنگامی اجلاس میں چوہدری شجاعت نے دھماکہ خیز فیصلہ سنا دیا

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے اپنی پارٹی کے اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی۔ اجلاس میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، سینیٹر کامل علی آغا، ارکان قومی اسمبلی مونس الٰہی اور حسین الٰہی کے علاوہ ڈاکٹر خالد رانجھا،

سلیم بریار، میاں منیر، عالمگیر ایڈووکیٹ، جہانگیر اے جھوجہ ایڈووکیٹ، آمنہ الفت، شیخ عمر حیات اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم، حکومتی پارٹی کے ارکان کے حالیہ بیانات، حکومت کے ساتھ تعلقات اور پی ٹی آئی کی نئی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل اور ملکی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کو یہ باور کرایا جائے کہ سیاسی معاملات طے ہو جاتے ہیں تو پھر بار بار تبدیلی سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے کیونکہ پہلے جو چیزیں طے ہوئی تھیں وہ دونوں جانب سے پوری مشاورت سے طے ہونے کے بعد آگے بڑھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی اچھی بات ہے مگر بار بار تبدیلی کی اچھی روایت نہیں، پاکستان تحریک انصاف سے ہمارا الیکشن سے پہلے کا تحریری معاہدہ ہے جس پر آج تک کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا، پھر حکومت بنانے کے بعد پہلی مذاکراتی ٹیم بنی مگر اس کے کسی فیصلہ پر کوئی عملدرآمد نہ ہوا، اس کے بعد دوسری کمیٹی سے معاملات طے ہوئے مگر اس کمیٹی کو بھی فارغ کر دیا گیا اور اب تیسری کمیٹی بنائی جا رہی ہے، ہمارا خیال ہے کہ جو فیصلے دوسری کمیٹی میں ہوئے ہیں ان پر پہلے عملدرآمد ہو جائے تو پھر نئے معاملات پر بات کی جائے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی حکومت سے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کر رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے چند وزراء اور معززین وزیراعظم اور ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں، ہمیں وزارتوں سے

زیادہ ملکی مفادات اور عوام کے حقوق و مشکلات کا خیال ہے اور ہم نے اپنی تمام توجہ اسی طرف مرکوز کر رکھی ہے، ہم نے ہمیشہ عوام کے حقوق اور ملکی مفاد میں فیصلے کیے ہیں اور اس اصول پر قائم ہیں، ملک کے اندرونی حالات اور سرحدوں کی ہنگامی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے اسی لیے حکومت سے تعاون کر رہے ہیں، ہم نے اتفاق رائے سے اور دو تہائی اکثریت سے حکومت کی ہے

چند حکومتی معززین بار بار وزارتوں کے حصول کی بات کرتے ہیں ہمیں ایسا کوئی لالچ نہیں۔ اجلاس نے گورنر پنجاب چودھری سرور کا یہ بیان بھی زیرغور آیا جس میں انہوں نے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کے بیانات کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بڑی میچور بات کی ہے کہ اتحاد ٹوٹنے سے سب کا نقصان ہوگا،

اتحادیوں کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر ئیے جائیں گے کیونکہ ہمارا اتحاد پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے، چودھری صاحبان سے میرے دیرینہ تعلقات ہیں کسی اتحاد نے نہیں کہا کہ وہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں، چودھری پرویزالٰہی نے میرے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی میں نے ان کے ہر بیان کو بڑی باریکی سے سنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…