ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

امریکی فوجیوں کی لاشیں ایک ہی شرط پر مل سکتی ہیں،طالبان نے افغانستان میں لاشیں اٹھانے کیلئے آنیوالے امریکیوں کو مار بھگایا‎

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

غزنی،کابل (مانیٹرنگ ڈیس ، این این آئی ) طالبان نے افغانستان میں لاشیں اٹھانے کے لیے آنے والے امریکی اہلکاروں کو مار بھگایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے افغانستان کے صوبے غزنی میں اپنے فوجی طیارے اور فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیےآپریشن کیا تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کی لاشیں لینے کے لیے آنے والوں کو مار بھگایا۔

برطانوی نیوز ایجنسی نے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے اپنے دو فوجیوں کی لاشیں حاصل کرنے کے لیے کئی حملے کیے تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا اور افغان فورسز نے غزنی کے علاقے کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی تاہم ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہم امدادی ادارے کو جائے وقوعہ پر لاشیں اٹھانے کی اجازت دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے عینی شاہد نے جائے وقوعہ پر 6 لاشیں دیکھی تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔دریں اثنا عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں پیش آنے والے طیارے کے حادثے میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث امریکی سی آئی اے ٹیم کا سربراہ ہلاک ہوگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دیے گئے بیان میں کہا کہ دشمن کا انٹیلی جنس طیارہ تباہ ہوگیا جس میں امریکی سی آئی اے کے انتہائی اہم لوگ بھی مارے گئے۔روسی انٹیلی جنسی حکام نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز افغانستان میں گرنے والے طیارے میں ایران میں امریکی سی آئی اے آپریشنز کے سربراہ ڈی اینڈرا بھی مارے گئے۔

روسی انٹیلی جنس حکام کا کہناتھا کہ ڈی اینڈرا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ملوث تھے اور ایران کے لیے امریکی سی آئی کے آپریشنز کے سربراہ تھے۔عرب میڈیا کے مطابق ڈی اینڈرا کو 2017 میں ایران مشن سینٹر کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا اور وہ خطے میں سی آئی اے کے انتہائی اہم ممبر سمجھے جاتے تھے۔ تباہ ہونے والے اس طیارے کو ڈی اینڈرا کے لیے امریکی سی آئی اے کی موبائل کمانڈر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔

جب کہ ڈی اینڈرا کو آیت اللہ مائیک، ڈارک پرنس اور انڈر ٹیکر کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔گزشتہ روز افغان طالبان نے صوبہ غزنی میں ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے مطابق کہا گیا مذکورہ طیارہ امریکی انٹیلی جنس تھا۔افغان حکام نے طیارے سے متعلق ابتدا میں دعویٰ کیا تھا یہ طیارہ افغانستان کی سرکاری ائیرلائن کا ہے تاہم ائیرلائن کی جانب سے اس کی تردید کی گئی گئی تھی۔دوسری جانب امریکی افواج نے افغان طالبان اور روسی انٹیلی جنس حکام کے دعوے کی تردید کردی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی افواج کے ذرائع کا کہناہے کہ افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے میں سی آئی اے کا کوئی ممبر موجود نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…