بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سی پیک پر کام کرنے والے 4 ہزار چینی ماہرین کی سکیورٹی کے لیے تعینات 10 ہزار سے زائد اہلکاروں کو اپنے لالے پڑ گئے ، آئی جی نے بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

َََِلاہور(آن لائن) پنجاب میں متعدد سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے 4 ہزار چینی ماہرین کی سیکیورٹی کے لیے تعینات پنجاب پولیس کے 10 ہزار سے زائد اہلکار کوکرونا وائرس سے غیر محفوظ قرار دے دیے گئے ۔ تفصیلا ت کے مطابق اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے ڈائریکٹر ڈی آئی جی عمر شیخ نے آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کو خط لکھ کر میڈیکل تجاویز اور 10 ہزار پولیس

اہلکاروں کے لیے ضروری سامان طلب کرتے ہو ئے کہا کہ پنجاب پولیس کا ایس پی یو یونٹ صوبے بھر میں غیر ملکیوں، بالخصوص چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ چینی شہری روزانہ کی بنیاد پر پاکستان سے آتے اور جاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارے ملک اور اہلکاروں میں وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیںانہوں نے آئی جی پنجاب سے مدد طلب کی کہ پنجاب کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل سے رابطہ کرکے ان سے میڈیکل معاونت اور اہلکاروں کا کرونا وائرس کے پھیلنے پر علاج طلب کیا جائے  ۔ڈی آئی جی نے کہا کہ ڈی جی صحت سے پنجاب پولیس کو کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کو علاج کے لیے مراکز میں منتقل کرنے کے حوالے سے معلومات بھی فراہم کی جائیں متعلقہ پیش رفت میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پنجاب کے ڈی جی صحت کو کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے نمونے لینے کے لیے 100 کٹس فراہم کی ہیں معیاری طریقہ کار کے مطابق ان نمونوں کو اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز (این آئی ایچ) بھیجا جائے گاہائی الرٹ کے باعث پنجاب حکومت نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے داخلے اور علاج کے لیے 4 ٹیچنگ ہسپتالوں میں وارڈزمختص کیئے ہیں ان میں سروسز ہسپتال لاہور، نشتر ہسپتال ملتان، بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی اور علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ شامل ہیں تمام متعلقہ حکام، سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان بشمول وائس چانسلرز، پرنسپلز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے علاوہ صحت حکام کو مشتبہ مریضوں کو ان اداروں میں منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔  ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…