بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد کے سکول میں پیٹ کے کیڑے مارنے کی دوا پینے سے 25 بچوں کی حالت غیر ہو گئی، بچے تکلیف سے تڑپتے رہے، انتہائی افسوسناک صورتحال

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد کے ایک اسکول میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کی دوائی پینے سے 25 بچوں کی حالت بگڑ گئی جنہیں تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔اسلام آباد کے 423 سرکاری اسکولوں میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کیلئے دوا پلائی گئی۔

ملوٹ کے علاقے میں واقع فیڈرل گورنمنٹ اسکول میں دوائی کے استعمال سے 25 بچوں کی حالت خراب ہو گئی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔اسکول انتظامیہ کے مطابق 15 بچوں کو قریبی بنیادی مرکز صحت لے جایا گیا جہاں سے 2 بچوں کو حالت مزید خراب ہونے پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) لے جایا گیا۔ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ اس معاملے پر اسکول پرنسپل کا کہنا ہے کہ 70 بچوں کو آج پیٹ کے کیڑے مارنے کی دوائی دی گئی تھی، دواکی میعاد 2023 تک تھی۔دوسری جانب بچوں کے والدین نے کہاکہ گزشتہ کئی سال سے بچے اسکول میں زیر تعلیم ہیں تاہم اس سال بنا کسی نوٹس یا حفاظتی تدبیر کے بچوں کو دوائی دی گئی جو کہ شدید تکلیف کا سبب بنی۔والدین کے مطابق صبح ساڑھے 9 سے 1 بجے تک بچوں کو اسکول میں رکھا گیا اور اس دوران گارڈ نے مرکزی دروازے پر تالے لگا رکھے تھے اور بچے تکلیف سے تڑپتے رہے، بعد ازاں بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال پہنچایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹ کے کیڑے مارنے کی دوا زائد المعیاد تھی یا یہ کوئی اور معاملہ ہے، اس حوالے سے حکام کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…