ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

انسداد دہشت گردی عدالت، سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں نیا موڑ  عبدالرحمان بھولا، زبیر چریا نے حتمی بیان ریکارڈ کرادیا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) انسداد دہشت گردی میں سانحہ بلدیہ کیس کے ملزمان ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمان بھولا، زبیر چریا نے حتمی بیان ریکارڈ کرادیا۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کے دونوں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا آگ لگانے کے بیان سے مکر گئے۔ملزم عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا سے 380 سے زائد سوالات پوچھے گئے،

ملزمان نے عدالت میں سوالات کے تحریری جواب جمع کرادئیے۔ملزم عبدالرحمان بھولا کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں آتشزدگی کے وقت ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر کا انچارج تھا لیکن آگ لگانے میں ملوث نہیں ہوں۔دوسرے ملزم زبیر چریا نے کہا کہ علی انٹرپرائز کے فشنگ ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا، آگ لگی یا لگائی اس کے بارے میں نہیں جانتا۔واضح رہے کہ اس سے قبل ملزمان بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگانے کا اعتراف کرچکے ہیں، عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے 3 فروری کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے دلائل طلب کرلیے۔یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ڈھائی سو کے لگ بھگ ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…