جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے بزرگ اور بیمار سزایافتہ قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا،نئے قانون پر عملدرآمد شروع

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے بزرگ اور بیمار سزایافتہ قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا۔سندھ میں نافذ العمل جیل ایکٹ کے تحت ساٹھ سال کی خواتین قیدیوں اور پینسٹھ سال کے مرد قیدیوں کو سزاکا نصف پورا کرنے پررہا کیاجائیگاموذی اور جان لیوا امراض میں مبتلا مریضوں اور کمسن قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی مروجہ قواعد پر عمل کیاجائے گا

دومعمر وبیمار قیدیوں کی رہائی کے لیئے کاغذی کاروائی آخری مراحل میں جبکہ مختلف جیلوں میں قید چالیس دیگر قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی درخواستیں جلد میڈیکل بورڈ کو بھیجی جائینگی تفصیلات کے مطابق محکمہ جیل خانہ سندھ نے 125سال بعد تبدیل کیے گئے جیل اور قیدیوں سے متعلق نئے قانون پر عمل کاآغاز کردیا ہے سندھ میں نافذ العمل پریژن اینڈ کریکشنل فیسیلیٹیز ایکٹ کی شق اڑتالیس اور اننچاس کے تحت سزایافتہ بیمار اور بزرگ قیدیوں کو رہا کیاجائیگامروجہ قانون کے تحت ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین اور پینسٹھ سال کی عمر کے مرد قیدی جو کسی بیماری کا شکار ہوں یا سزاکا نصف مکمل کرچکے ہوں انکو رہا کیاجائیگاجبکہ خواتین وکم عمر قیدی جو کسی دہشتگردی،یا خطرناک جرائم میں ملوث نہ ہوں انکو بھی رہا کیاجائیگااس ضمن میں محکمہ داخلہ سندھ نے بتایا کہ جان لیوا امراض میں مبتلا پانچ سزا یافتہ قیدیوں کو رہا کیاجاچکا ہے اور دو قیدیوں کی رہائی کے لیے کاغذی کاروائی مکمل کی جارہی ہے جبکہ سندھ کی مختلف جیلوں میں موجود سزایافتہ چالیس دیگر قیدی جن کی عمر اور بیماری زیادہ ہے انکی رہائی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں محکمہ داخلہ کے مطابق سزایافتہ قیدیوں کی رہائی کے لیے قیدیوں کے جرائم،انکی جیل میں سرگرمی،بیماری اور عمر کو مدنظر رکھنے کے ساتھ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی دیکھی جاتی ہے سندھ اسمبلی نے مئی دوہزار انیس میں صوبے کی جیلوں اور قیدیوں کے لیے نیا قانون منظور کیاتھا جس کے تحت پینسٹھ سال کی عمر کے قیدیوں کی رہائی کو قانون کا حصہ بنایاگیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…