جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

امریکی کانگریس کی ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت بھارت کو انتباہ جاری کرتے ہوئے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھارت کو ایک مرتبہ باور کروایا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق خود ارادایت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن نے 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سماعت کی تھی جس میں کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کی غیر معمولی حمایت کی گونج دہائیوں میں شاید

پہلی مرتبہ سنائی دی۔اوہائیو یونیورسٹی میں مرکز برائے قانون و انصاف کی ڈائریکٹر ہیلی دشینسکی نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور پینل کو یاد کروایا کہ 70 برس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیے گئے وعدے کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ہیلی دشینسکی کے بیان پر بھارت نڑاد امریکی کالم نگار سنندا وشست برہم ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ رائے شماری کبھی نہیں ہوسکتی کیونکہ نہ تو بھارت نہ پاکستان یہاں تک کہ چین بھی اپنے کنٹرول میں موجود علاقے خالی نہیں کرے گا جو استصواب رائے کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کو گڈ لک جو چین سے کشمیر خالی کروائے گا، اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں، استصواب رائے بہت دور ہے یہ کبھی نہیں ہونے والا۔اس بیان پر کانگریس کے رکن جیمز میک گورن برہم ہوگئے اور کہا کہ حق خود ارادیت بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ سنندا وشست ہم کبھی اس اصول کے حق میں کھڑے پر ہار نہیں مان سکتے جس کے تحت لوگوں کو حق خودارایت کا حق حاصل ہے۔سنندا وشست نے اصرار کیا کہ کشمیر کا واحد مسئلہ سرحد پار پاکستان سے آنے والی دہشت گردی ہے جس پر کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکس نے کہا کہ کسی پورے ملک سے ان اقدامات کو منسوب کرنا جن سے کوئی اتفاق نہیں کرتا ایک خطرناک رجحان ہے۔جیمز میک گورن نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو انسانی حقوق کی عظمت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کو لوگوں کی بنیادی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہمیں یہ پتہ لگانا ہے کہ اس بلیم گیم سے کیسے نکلنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…