ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آپ مثالیں نبی کریمؐ کی دیتے ہیں اور خود اپنے ورکرز کو سخت سردی اور بارش میں چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں، سلیم صافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا حیرت انگیز موقف سامنے آ گیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سلیم صافی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے دوران انٹرویو سوال کیاکہ آپ نے لوگوں کو روڈ پر لا کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، انہوں نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے ہیں یہ لوگ بارش اور سردیوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن آپ لوگ صرف اسمبلیوں سے بھی مستعفی نہیں ہو سکتے،

اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ انہوں نے ناجائز حکومت اور ناجائز الیکشن کمیشن کو خطرے میں ڈالا ہے، اس طرح پھر قومیں قربانی دیتی ہیں، کارکن قربانی دیا کرتے ہیں، نظریاتی کارکن میدان میں آتا ہے تو ایک ہدف لے کر آتا ہے، معروف صحافی نے اس دوران کہا کہ لیڈر بھی تو قربانی دیا کرتے ہیں پہلے لیڈر قربانی دیں، جس کے جواب میں مولانا صاحب نے کہا کہ لیڈر ان کے صف با صف ہیں، میں خود ذاتی طور پر کراچی سے اسلام آباد تک اپنے کارکنوں کے شانہ بہ شانہ چل کر یہاں آیا ہوں، بلوچستان کے لوگ ہمارے ساتھ ملتان میں شریک ہوئے ہیں اور جتنی بھی صوبائی قیادت ہے اور مرکزی عاملہ کے جتنے بھی رکن ہیں وہ مسلسل ان قافلوں کے ساتھ قدم بہ قدم رہے اور ابھی بھی اپنے لوگوں کے ساتھ ادھر موجود ہیں، اس موقع پر سلیم صافی نے کہا کہ جس طرح شام کو عمران خان بنی گالہ چلے جاتے تھے، آپ بھی کارکنوں کو سردی میں ٹھٹھرتا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب میرے کارکن اس بات کی شکایت نہیں کر رہے ہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، آپ مجھ سے زیادہ میرے کارکنوں کے ہمدرد ہو گئے ہیں، آپ میرے کارکنوں سے زیادہ مخلص ہیں،میں آپ کا بھی ہمدرد ہوں کہ آپ عمران خان نہ بنیں، میرا کارکن جس حالت میں ہے اور میں جس حالت میں ہوں، ہم آپس میں رازی بازی ہیں آپ چھوڑیں نہ بیچ میں اس طرح اترنے کے لیے۔

سلیم صافی نے کہاکہ آپ جس طرح دین ہمیں سکھاتے ہیں جس کے غلبے کے لیے آپ جدوجہد کر رہے ہیں اس کو لانے والے نبی کریمؐ جنگ کے موقع پر ایک صحابی نے ان کو دکھایا کہ انہوں نے ایک پتھر باندھا ہوا تھا جب حضورؐ نے ان کو اپنا پیٹ دکھایا تو نبی کریمؐ نے دو پتھر باندھے ہوئے تھے، ہمارے دین میں تو لیڈر زیادہ سختی برداشت کرتے ہیں، اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں ہم سختی زیادہ برداشت کر رہے ہیں، ہم جب فیصلہ کرتے ہیں تو خود کو اپنے آپ کو محاذ پر اور فرنٹ پر سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج بھی اگر گرفتار ہو گی تو سب سے پہلے میری ہوگی۔ ایک سال سے میری گرفتاری اور نظربندی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن میں محفوظ راستے پر نہیں گیا بلکہ میں ڈٹا ہوا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…