منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شفقت حسین کی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کیوں ہوئی

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت کی جانب سے سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کو منگل کی صبح دی جانے والی پھانسی آخری لمحات میں ملتوی کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرےگی۔ نجی ٹی وی نے ایوان صدر کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بظاہر یہ سزا سندھ جیل انتظامیہ کے احکامات پر ملتوی کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد صدر ممنون حسین کو آگاہ کیا گیا کہ کس طرح یہ سزا کس کے احکامات پر ملتوی کی گئی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو بتایا گیا کہ ایک این جی او جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے ایک خط سندھ جیل انتظامیہ کو تحریر کرکے ملزم کی پھانسی ملتوی کرنے کی درخواست کی کیونکہ اس کی ایپل کو سپریم کورٹ نے رسمی سماعت کےلئے قبول کرلیا تھا۔انہوںنے کہاکہ جیل مینوئل کی شق 104 کے تحت جیل نے سزا پر عملدرآمد روک دیا۔سینٹرل جیل کراچی میں شفقت حسین کی پھانسی کو ملتوی کرنے کے فیصلے نے تمام متعلقہ یہاں تک کہ ملزم کے اپنے وکیل کو بھی ششدر کردیا تھا۔صدارتی ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملزم کی سزا روکنے سے متعلق نہ تو وزیراعظم آفس نے رحم کی درخواست ارسال کی تھی اور نہ ہی صدر ممنون حسین نے ایسے احکامات جاری کیے تھے۔چند روز قبل کراچی سینٹرل جیل کے جیلر قاضی نذیر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سزا کو ملتوی کیے جانے کی ذمہ داری لیتے ہیں سزا پر عملدرآمد کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، مگر ایک شخص کی جان پھر واپس نہیں آسکتی اور سزا کی صبح سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی تھی اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ پھانسی کو روک دوں۔شفقت حسین کو 2004 میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل پر سزائے موت سنائی تھی۔ کیس پر کارروائی مقامی عدالتوں، ہائیکورٹ اور آخر میں سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں سزا کو برقرار رکھا گیا۔شفقت حسین کی رحم کی درکواست بھی صدر نے مسترد کردی تھی۔اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اظہر من اللہ نے کہا تھا کہ سماعت کے دوران ایسا کوئی مواد سامنے نہین آسکا جسسے ثابت ہوتا کہ پٹیشنر کے کسی قسم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں ایسی درخواست کی گنجائش نہیں کیونکہ ایسی درخواست عدالتی نظام پر سے عوام کا اعتماد اٹھانے کا باعث بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…