ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

تمام اینکرز پر ٹی وی شوز میں تجزیہ دینے پر پابندی عائد، حامد میر کا شدید ردعمل سامنے آ گیا، پابندی کس نے عائد کی؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیمرا نے اینکرز کو دوسرے شوز پر بطور تجزیہ کار پابندی عائد کر دی، یہ ٹویٹ معروف اینکر منصور علی خان نے کیا اور انہوں نے ساتھ لیٹر بھی جاری کیا، جس پر معروف صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پیمرا اینکرز کو ڈکٹیشن دے کر کہ وہ بطور تجزیہ کار دوسرے ٹی وی شوز میں نہ جائیں آزادی اظہار رائے کے قانون کا مذاق اڑا رہا ہے،

حامد میر نے مزید کہا کہ میں تین دہائیوں سے صحافتی شعبے سے منسلک ہوں لہٰذا مجھے حق حاصل ہے کہ میں اپنی رائے کا اظہار اپنے کالم یا کسی دوسرے ذریعے سے کر سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں یہ پیمرا نہیں بلکہ کوئی اور ناراض ہے کیونکہ اینکرز اس کی سن نہیں رہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہباز شریف کی درخواست پر میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور ہوئی، اس موقع پر عدالت میں ڈیل کی باتیں کرنے والے اینکرز کو بھی طلب کیا گیا، عدالت میں پانچوں اینکرزکا نام پکارا گیا کہ ہمارے قابل احترام اینکرزآئے ہیں؟ جس پر سینئر صحافی اوراینکرزحامدمیر، کاشف عباسی، سمیع ابراہیم، محمد مالک اور عامرمتین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سمیع ابراہیم بتائیں ڈیل کس کی ہے؟ کیا وزیراعظم نے ڈیل کی ہے؟ یہ کہنا کہ ہوسکتا ہے ڈیل ہورہی ہے، عدلیہ بات درست نہیں، ہمارے بغیر کوئی ڈیل نہیں کرسکتا۔ اللہ کا حکم ہے سنی سنائی بات کو آگے مت کرو۔ آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام کررہے ہیں۔ہرادارے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جو بھی فیصلہ دیتے ہیں پنڈوراباکس کھل جاتا ہے۔طویل عرصے سے ڈیل کی باتیں سن رہے ہیں۔ ڈیل کی باتوں پر بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا، کیس کا فیصلہ بات میں آتا ہے لیکن میڈیا ٹرائل پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ کیا عدلیہ اس ڈیل کا حصہ ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے کسی جج پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر عدالت نے محمد مالک نے بات کرنے کی کوشش کی توعدالت نے چپ کروادیا، جسٹس محسن اختر نے کہا کہ آپ اپنی ٹون ٹھیک کریں۔عدالت نے اینکرپرسنز سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ جسٹس محسن اختر نے کہا کہ جو بات ریڑھی والا کرتا ہے وہی بات ٹی وی پر ہورہی ہوتی ہے۔ ملک اس لیے حاصل نہیں کیا کہ اس طرح حشربنایا جائے۔ چیف جسٹس نے پیمرا کی بھی کلاس لی۔ انہوں نے کہا کہ بتائیں پیمرا نے کن کے خلاف ایکشن لیا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…