جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

تمام اینکرز پر ٹی وی شوز میں تجزیہ دینے پر پابندی عائد، حامد میر کا شدید ردعمل سامنے آ گیا، پابندی کس نے عائد کی؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیمرا نے اینکرز کو دوسرے شوز پر بطور تجزیہ کار پابندی عائد کر دی، یہ ٹویٹ معروف اینکر منصور علی خان نے کیا اور انہوں نے ساتھ لیٹر بھی جاری کیا، جس پر معروف صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پیمرا اینکرز کو ڈکٹیشن دے کر کہ وہ بطور تجزیہ کار دوسرے ٹی وی شوز میں نہ جائیں آزادی اظہار رائے کے قانون کا مذاق اڑا رہا ہے،

حامد میر نے مزید کہا کہ میں تین دہائیوں سے صحافتی شعبے سے منسلک ہوں لہٰذا مجھے حق حاصل ہے کہ میں اپنی رائے کا اظہار اپنے کالم یا کسی دوسرے ذریعے سے کر سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں یہ پیمرا نہیں بلکہ کوئی اور ناراض ہے کیونکہ اینکرز اس کی سن نہیں رہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہباز شریف کی درخواست پر میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور ہوئی، اس موقع پر عدالت میں ڈیل کی باتیں کرنے والے اینکرز کو بھی طلب کیا گیا، عدالت میں پانچوں اینکرزکا نام پکارا گیا کہ ہمارے قابل احترام اینکرزآئے ہیں؟ جس پر سینئر صحافی اوراینکرزحامدمیر، کاشف عباسی، سمیع ابراہیم، محمد مالک اور عامرمتین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سمیع ابراہیم بتائیں ڈیل کس کی ہے؟ کیا وزیراعظم نے ڈیل کی ہے؟ یہ کہنا کہ ہوسکتا ہے ڈیل ہورہی ہے، عدلیہ بات درست نہیں، ہمارے بغیر کوئی ڈیل نہیں کرسکتا۔ اللہ کا حکم ہے سنی سنائی بات کو آگے مت کرو۔ آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام کررہے ہیں۔ہرادارے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جو بھی فیصلہ دیتے ہیں پنڈوراباکس کھل جاتا ہے۔طویل عرصے سے ڈیل کی باتیں سن رہے ہیں۔ ڈیل کی باتوں پر بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا، کیس کا فیصلہ بات میں آتا ہے لیکن میڈیا ٹرائل پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ کیا عدلیہ اس ڈیل کا حصہ ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے کسی جج پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر عدالت نے محمد مالک نے بات کرنے کی کوشش کی توعدالت نے چپ کروادیا، جسٹس محسن اختر نے کہا کہ آپ اپنی ٹون ٹھیک کریں۔عدالت نے اینکرپرسنز سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ جسٹس محسن اختر نے کہا کہ جو بات ریڑھی والا کرتا ہے وہی بات ٹی وی پر ہورہی ہوتی ہے۔ ملک اس لیے حاصل نہیں کیا کہ اس طرح حشربنایا جائے۔ چیف جسٹس نے پیمرا کی بھی کلاس لی۔ انہوں نے کہا کہ بتائیں پیمرا نے کن کے خلاف ایکشن لیا؟

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…