منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قرضوں اور اخراجات کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں،سابق صدراسلام آباد چیمبر

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے جسکی وجہ سے معیشت تیزی سے بیٹھ رہی ہے۔بیس لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے نصف یااس سے بھی کم تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں جبکہ متوسط طبقہ جو کسی بھی معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔

تیزی سے سکڑ کر ختم ہو رہا ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس نے غریبوں کو زندہ درگور اورسفید پوشوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور حکومتی مداخلت کے بغیر عوام کی قوت خرید کو بہتر بنانا ناممکن ہے جس میں ٹیکس حکام اور شرح سود بڑی رکاوٹ ہیں۔انھوں نے کہا کہ دس سال پہلے پاکستانی 1.1 کھرب روپے کا ٹیکس دیتے تھے جبکہ گزشتہ سال 3.8 کھرب کا ٹیکس ادا کیا گیا ہے ۔ان دس سالوں میں حکومت کے اخراجات 1.5 کھرب روپے سے بڑھ کر 7.2 کھرب تک پہنچ گئے ہیںجو ایک عالمی ریکارڈ ہے مگر اسکے باوجودعوام کو ہی ٹیکس چور کہا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملکی قرضے اور واجبات چار سو دو کھرب اور پندرہ ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچا دئیے گئے ہیں جبکہ قرضوں میں ایک سال میں دس ہزار تین سو پینتیس ارب کے اضافہ کا ریکارڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔اس وقت قرضے ملک کی مجموعی پیداوار سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔بجلی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے مگر خسارہ سترہ سو ارب تک جا پہنچا ہے، سرکاری کارپوریشنیں اکیس سو ارب کے خسارہ میں ہیں، گیس کا شعبہ دو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے اور ان سب معاملات میں عوام یا تاجر ملوث نہیں بلکہ یہ بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے کارنامے ہیںاور اب وہ معیشت کا پیہہ جام کر کے حکومت کی تجوری بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ناممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…