جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

قرضوں اور اخراجات کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں،سابق صدراسلام آباد چیمبر

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے جسکی وجہ سے معیشت تیزی سے بیٹھ رہی ہے۔بیس لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے نصف یااس سے بھی کم تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں جبکہ متوسط طبقہ جو کسی بھی معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔

تیزی سے سکڑ کر ختم ہو رہا ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس نے غریبوں کو زندہ درگور اورسفید پوشوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور حکومتی مداخلت کے بغیر عوام کی قوت خرید کو بہتر بنانا ناممکن ہے جس میں ٹیکس حکام اور شرح سود بڑی رکاوٹ ہیں۔انھوں نے کہا کہ دس سال پہلے پاکستانی 1.1 کھرب روپے کا ٹیکس دیتے تھے جبکہ گزشتہ سال 3.8 کھرب کا ٹیکس ادا کیا گیا ہے ۔ان دس سالوں میں حکومت کے اخراجات 1.5 کھرب روپے سے بڑھ کر 7.2 کھرب تک پہنچ گئے ہیںجو ایک عالمی ریکارڈ ہے مگر اسکے باوجودعوام کو ہی ٹیکس چور کہا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملکی قرضے اور واجبات چار سو دو کھرب اور پندرہ ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچا دئیے گئے ہیں جبکہ قرضوں میں ایک سال میں دس ہزار تین سو پینتیس ارب کے اضافہ کا ریکارڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔اس وقت قرضے ملک کی مجموعی پیداوار سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔بجلی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے مگر خسارہ سترہ سو ارب تک جا پہنچا ہے، سرکاری کارپوریشنیں اکیس سو ارب کے خسارہ میں ہیں، گیس کا شعبہ دو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کر رہا ہے اور ان سب معاملات میں عوام یا تاجر ملوث نہیں بلکہ یہ بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے کارنامے ہیںاور اب وہ معیشت کا پیہہ جام کر کے حکومت کی تجوری بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ناممکن ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…