جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا کو پیغام بھجوایا لیکن جو مرضی ہو جائے کس معاملے پر بات نہیں ہو سکتی ، حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بھی ڈٹ گئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی،کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے،مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں بیٹھ کر بات ہو گی۔

کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے،ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ جمعرات کو یہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ کمیٹی تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی لیکن کمیٹی کے نام ابھی فائنل نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہاکہ مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ میں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی بغیر کسی ایشو کے چڑھائی کر دے۔پرویز خٹک نے کہا کہ میرے خلاف طاقت استعمال کی گئی تھی جس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلا۔

پوری کوشش ہو گی 27 اکتوبر سے پہلے معاملات حل ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کردیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے، احتجاج کا حصہ بننے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔پرویز خٹک نے کہا کہ جمہوری ملک ہے مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرکے ہی حل نکالیں گے، اگر ان کے جائز مطالبات ہیں تو حکومت ان کی بات سنے گی، لیکن ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…